Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائفر کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے کل تک ملتوی

راولپنڈی: آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے کل تک ملتوی کردی گئی۔

اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کی۔

 خصوصی عدالت کے جج ذوالقرنین نے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کی عدم موجودگی کے باعث سماعت کل تک ملتوی کردی۔

سماعت ملتوی ہونے کے بعد جج، ایف آئی اے کی ٹیم اور پراسیکیوٹر واپس روانہ ہو گئے۔

سائفر کیس میں اہم گواہ سابق سفیر اسد مجید کا بیان

 اڈیالہ جیل راولپنڈی میں خصوصی عدالت کے سامنے سابق سفیراسد مجید نے بیان دیا کہ جنوری 2019 سے مارچ 2022 تک امریکہ میں بطور سفیر تعینات تھا، 7 مارچ کو ڈونلڈ لو کے ساتھ پاکستان ہاوس میں نے ورکنگ لنچ کا انتظام کیا تھا۔

اسد مجید نے بیان دیا کہ ملاقات کا مقصد Covid-19 کے پاکستانی سفارتکاروں کو درپیش مسائل تھا، ملاقات میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن نوید صفدر بخاری بھی موجود تھے، ملاقات میں ملٹری اتاشی برگیڈئیر نعمان اعوان اور سیاسی کونسلر قاسم محی الدین بھی شامل تھے۔

سابق سفیرنے عدالت کو بیان دیا کہ ڈونلڈ لو سے ملاقات ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھی، ملاقات میں شامل دونوں فریقین کو معلوم تھا منٹس آف میٹنگ ریکارڈ ہورہے ہیں، ڈونلڈ لو سے ملاقات کی ساری گفتگو سائفر کی صورت میں اسلام آباد بھیجی گئی۔

اسد مجید نے خصوصی عدالت کو بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ سائفرٹیلی گرام میں کہیں پر سازش یا دھمکی کا کوئی ذکر نہیں تھا،  سائفر کو سازش قرار دینے کا فیصلہ اس وقت کی سیاسی قیادت کا تھا، سائفر ٹیلی گرام فارن سیکریٹری کو بھیجا گیا انہوں نے تمام متعلقہ افراد سے شیئر کیا۔

اسد مجید کے مطابق مجھے 22 اپریل 2022 کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں بلایا گیا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے متفقہ طور پر پاکستان میں امریکن ایمبیسی اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ واشنگٹن ڈی سی کو ڈی مارش کرنے کی سفارش کی، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں فیصلہ ہوا کہ سائفر کوئی سازش نہیں تھی۔

سابق سفیر نے عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ وزارت خارجہ نے بھی سائفر کو سازش قرار نہیں دیا تھا، سائفر ایپیسوڈ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات شدید متاثر ہوئے، سائفر کو سازش قرار دینا پاک امریکہ تعلقات کیلئے سیٹ بیک تھا۔

 

متعلقہ خبریں

Exit mobile version