لاہور ہائی کورٹ نے نیب ترمیم کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس شجاعت علی خان نے نیب آرڈنینس کالعدم قرار دینے کے لئے درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر شہری منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ارڈنینس محض ایک سیاسی جماعت کے لیے جاری کیا گیا، پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی ہونی چاہیے تھی۔
وکیل نے اپنے مؤقف میں کہا کہ صدر آصف زرداری کی غیر موجودگی میں آرڈیننس کو منظور کر لیا گیا، نیب آرڈنینس غیر قانونی ہے۔
اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ عدالت نیب ترمیمی آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دے۔
جسٹس شجاعت علی نے استفسار کیا کہ آگاہ کیا جائے کہ نیب آرڈیننس جاری کرنے کی اتنی جلدی کیوں تھی، نیب آرڈیننس سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر التواء کارروائی سے آگاہ کیا جائے، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے معاملہ زیر التواء نہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے حقائق رکھ کر معاونت کرنا مناسب ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے نیب ترمیم کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔
