معروف گیت نگار-اسکرین رائٹر جاوید اختر نے مصنوعی ذہانت پر کے استعمال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
جیسا کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے تخلیقی دائروں کو سنبھالنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہے، جاوید اختر نے مصنوعی ذہانت اور تخلیقی افراد پر اس کے ممکنہ اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ہالی ووڈ میں جاری احتجاج کی روشنی میں، جس کا مقصد صنوعی ذہانت کے خلاف تخلیقی پیشہ ور افراد کی روزی روٹی کا تحفظ کرنا ہے، جاوید اختر کا خیال ہے کہ اگرچہ AI چیلنجز پیش کر سکتا ہے، لیکن یہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں سے میل نہیں کھا سکتا۔
جاوید اختر کے مطابق لاشعور کے بغیر، AI انسانی تخلیقی صلاحیتوں سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے اور ساتھ ہی شعوری اور لاشعوری ذہنوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تخلیقی صلاحیت شعوری سطح سے باہر ہوتی ہیں۔
انہوں نے تکنیکی ترقی کی ناگزیریت کو تسلیم کیا اور انسان کو اس کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیشہ بدلتی ہوئی دنیا میں افراد کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
آخر میں، اگرچہ AI میں تخلیق کرنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے، اختر کا پختہ یقین ہے کہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو مشینوں کے ذریعے نقل نہیں کیا جا سکتا۔ وہ AI کی صلاحیت کے بارے میں پرامید رہتے ہیں لیکن تخلیقی صلاحیتوں کے دائرے میں انسانوں میں موجود منفرد خصوصیات کو تسلیم کرتے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
