پاکستانی ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کری ایٹر علی حیدرآبادی اور ان کی اہلیہ زینب علی کے درمیان طلاق کا معاملہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں علی حیدرآبادی کو اپنی اہلیہ کو طلاق دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاہم ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد اس حوالے سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
View this post on Instagram
بعد ازاں زینب علی نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے علی حیدرآبادی پر جسمانی اور ذہنی تشدد کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران انہیں مبینہ طور پر تشدد اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ویڈیو میں زینب علی کے ہاتھوں پر پٹیاں بھی دکھائی دیں تاہم انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
View this post on Instagram
دوسری جانب علی حیدرآبادی نے بھی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے تمام الزامات کی تردید کی اور کہا کہ میں نے کبھی اپنی سابق اہلیہ پر جسمانی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کوئی جسمانی نقصان پہنچایا۔
ٹک ٹاکر کے مطابق طلاق کے وقت ویڈیو اپنی حفاظت کے لیے ریکارڈ کی گئی تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ مستقبل میں ان کے خلاف غلط الزامات یا مواد استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ویڈیو میں کسی قسم کے تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ ویڈیو کے اختتام پر میرا موبائل فون لینے کی کوشش کی گئی۔
View this post on Instagram
علی حیدرآبادی کا کہنا تھا کہ ازدواجی زندگی کے دوران دونوں کے درمیان اختلافات ضرور رہے تاہم میں نے کبھی تشدد یا جان سے مارنے کی دھمکیاں نہیں دیں، اگر کسی متعلقہ ریاستی ادارے نے مجھے طلب کیا تو میں اپنے مؤقف کے حق میں تمام دستیاب شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔


















