امریکا نے ایران کے فضائی سپلائی نیٹ ورک کے خلاف نئی کارروائی کرتے ہوئے 27 ایرانی فضائی کمپنیوں سمیت مجموعی طور پر 36 اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران مبینہ طور پر ہتھیاروں اور غیر قانونی سامان کی نقل و حمل کے لیے ایوی ایشن سیکٹر کو استعمال کرتا ہے، اسی لیے ہتھیاروں کی منتقلی میں معاونت کرنے والی ایئرلائنز کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے فضائی شعبے کی معاونت کرنے والے نیٹ ورک کے بارے میں مزید رپورٹنگ طلب کرلی گئی ہے، جبکہ ایرانی فضائی حدود سے پروازوں کی اجازت دینے والی 3 کمپنیوں کے لائسنس بھی معطل کردیے گئے ہیں۔
اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں، جبکہ ایرانی ایئرلائنز کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کو عالمی مالیاتی نظام سے کٹنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا، جبکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی مضبوط اور مؤثر ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حوثیوں کے حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکا کے مضبوط دفاعی تعلقات ہیں اور خطے میں پیش آنے والے واقعات پر گہری نظر رکھی جارہی ہے، جبکہ یمنی فورسز بھی حوثیوں کے خلاف مؤثر زمینی کارروائیاں کررہی ہیں۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکا مقبوضہ مغربی کنارے کے معاملے پر برطانیہ جیسا اقدام نہیں کرے گا، تاہم واشنگٹن کوئی ایسا قدم نہیں چاہتا جو مغربی کنارے کے استحکام کو متاثر کرے۔




















