کیا آپ کو معلوم ہے کہ صحت مند افراد کا بلڈ پریشر کتنا ہونا چاہیے؟ اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتائیں گے۔
ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل مرض بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر افراد کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہیں اور اکثریت اس بات سے بھی لاعلم ہے کہ صحت مند انسان کا بلڈ پریشر کتنا ہونا چاہیے۔
آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ ایک صحت مند انسان کا بلڈ پریشر کتنا ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: صحت بخش اسمودی جو خوبصورت جلد کے حصول کو یقینی بنائیں
بلڈ پریشر کے جانچنے کے 2 پیمانے ہیں، ایک خون کا انقباضی دباؤ جو کہ اوپری دباؤ کے نمبر کا اظہار کرتا ہے، انقباضی دباؤ بنیادی طور پر دل کے دھڑکنے سے جسم کے مختلف اعضا تک پہنچنے والے خون کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
جبکہ دوسرا پیمانہ انبساطی دباؤ ہے جو انسانی دھڑکنوں کے درمیان وقفے اور آرام کے نمبر ظاہر کرتا ہے۔
تو یہ جان لیں کہ صحت مند افراد کا بلڈ پریشر 120/80 ہونا چاہیے، اگر کسی فرد کا بلڈ پریشر 130/80 ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں ہائی بلڈ پریشر کی بیماری کا آغاز ہو رہا ہے۔
اسی طرح اگر بلڈ پریشر 140/90 ہو تو یہ ہائی بلڈ پریشر کے سنگین مرحلے کی جانب بڑھنے کا عندیہ ہے۔
یہ نمبر انتہائی اہم ہوتے ہیں کیونکہ انقباضی دباؤ میں ہر 20 یا انبساطی دباؤ میں 10 نمبروں کے اضافے سے کسی فرد کے ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اس دال کا استعمال کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشرکواعتدال میں رکھتا ہے
اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد ہر سال کم از کم ایک بار بلڈ پریشر کو چیک ضرور کرنا چاہیے تاکہ اگر آپ اس بیماری کا شکار ہو گئے ہیں تو بروقت علاج کروا سکیں۔
