ماہرین صحت کے نزدیک روزانہ مختلف اقسام کے ملٹی وٹامنز لینا ہمیشہ سے ہی ایک متنازعہ موضوع بنا ہوا ہے کبھی اسے مضر صحت قرار دیا جاتا ہے کبھی فائدہ مند، تاہم حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں اس کے حیرت انگیز فائدے سامنے آئیں ہیں۔
تحقیق کے مطابق روزانہ ملٹی وٹامن لینا ذہنی صحت کو بہتر بنا کر ڈیمنشیا سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ نہایت امید افزاء خبر میساچوسٹس جنرل ہسپتال کی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی جس کے مطابق روزانہ ملٹی وٹامن لینے سے علمی زوال کو دو سال تک روکا جا سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، علمی زوال جس میں سیکھنے اور یاداشت میں کمی شامل ہے الزائمر اور ڈیمنشیا سے جڑی پہلی اور بنیادی علامات میں سے ایک ہے، جو مشترکہ طور پر دنیا بھر میں 55 ملین افراد کو متاثر کرتی ہے۔
مطالعہ کے مرکزی محقق چراگ ویاس کا کہنا ہے کہ علمی کمی زیادہ تر بوڑھے بالغوں میں صحت کے حوالے سے اہم ترین خدشات میں سے ایک ہے، تاہم ملٹی وٹامنز کا روزانہ استعمال بڑھاپے کو سست کرنے اور علمی زوال کو روکنے کے لیے ایک پرکشش اور قابل رسائی طریقہ ہے۔
اس تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر اولیویا اوکیریک کے مطابق، روزانہ 20 ضروری غذائی اجزاء پر مشتمل ملٹی وٹامن کا استعمال یاداشت کی کمی کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔
اس مطالعہ میں 573 افراد پر مختلف ملٹی وٹامنز کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ ایسے تمام افراد جو ملٹی وٹامن لے رہے تھے، پلیسبو گروپ کی نسبت، ان میں معلومات کو سیکھنے، جمع کرنے اور دوبارہ دہرانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
محققین نے واقفیت، توجہ، زبان کی روانی اور متعلقہ صلاحیتوں میں بھی بہتری دیکھی، جسے عالمی ادراک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم اب ان طریقہ کار کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کس طرح ملٹی وٹامن کا روزانہ استعمال یادداشت اور علمی کمی کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتا ہے ۔