رائی دنیا کے مختلف کھانوں میں ذائقے کے لیے صدیوں سے استعمال کی جارہی ہے تاہم ان میں موجود مختلف غذائی اجزا کے باعث انہیں یہ صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔
رائی میں گلوکوسینولیٹس سمیت مختلف مرکبات پائے جاتے ہیں جو آپ کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار کرسکتے ہیں اس کے علاوہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، سیلینیئم، میگنیشیم، مینگنیز، کیلشیم، زنک، پروٹین اور غذائی فائبر بھی موجود ہوتے ہیں۔
ایک کھانے کے چمچے رائی میں تقریباً 32 کیلوریز اور 1.8 گرام کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں تاہم غذائی مقدار بیجوں کی قسم اور مقدار کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق رائی میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے اور آنتوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ جبکہ فائبر مجموعی طور پر قبض سمیت بعض ہاضمے کے مسائل سے بچاؤ میں بھی معاون سمجھا جاتا ہے۔
رائی کے بیجوں میں موجود میگنیشیم اور کیلشیم بھی جسم کے لیے اہم معدنیات ہیں۔ یہ اجزا ہڈیوں اور پٹھوں کی معمول کی کارکردگی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، جبکہ سیلینیئم جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ نظام کا حصہ ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق رائی مناسب مقدار میں متوازن غذا کا حصہ بن سکتی ہے لیکن انہیں کسی بیماری کے علاج کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کسی مخصوص بیماری یا صحت کے مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
