Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

روزمرہ کے کاموں میں بڑھتی مشکلات موت کے خطرے کی علامت ہوسکتی ہیں

معمول کے کاموں میں وقت کے ساتھ بڑھتی مشکلات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

روزمرہ کے معمولی کام انجام دینے میں مسلسل دشواری پیدا ہونا کسی فرد کی صحت میں تبدیلی کی علامت ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق خریداری، ادویات کا استعمال، رقم کا انتظام، کھانا تیار کرنے، کپڑے دھونے یا آمدورفت جیسے معمول کے کاموں میں وقت کے ساتھ بڑھتی مشکلات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

جنوبی کوریا کی یونسی یونیورسٹی کے محققین نے 45 سال یا اس سے زائد عمر کے 6 ہزار 33 افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ شرکا سے 2006 سے 2014 کے دوران روزمرہ زندگی کے مختلف کاموں کے لیے درکار مدد کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔

تحقیق میں شامل زیادہ تر افراد یعنی 95 فیصد سے زائد کے روزمرہ کاموں میں مشکلات کم رہیں تاہم 276 افراد کے ایک گروپ میں آٹھ سال کے دوران ایسے کاموں میں مدد کی ضرورت نمایاں طور پر بڑھ گئی۔

محققین نے بعد میں شرکا کی ذہنی کیفیت اور اموات کا بھی جائزہ لیا۔ نتائج کے مطابق جن افراد کی روزمرہ کام انجام دینے کی صلاحیت میں مسلسل کمی آئی، ان میں افسردگی کی علامات بھی نسبتاً زیادہ دیکھی گئیں۔

تحقیق کے مطابق ذہنی دباؤ اور افسردگی کی علامات نے روزمرہ صلاحیت میں کمی اور موت کے خطرے کے درمیان تعلق کے تقریباً 16 فیصد حصے کی وضاحت کی تاہم اس تعلق کی بڑی وجہ اب بھی واضح نہیں ہوسکی۔

آٹھ سالہ جائزے کے بعد روزمرہ کاموں میں بڑھتی مشکلات والے 276 افراد میں سے 187 انتقال کرگئے جب کہ کم مشکلات والے 5 ہزار 757 افراد میں سے ایک ہزار 67 افراد کی موت ہوئی۔

عمر، دائمی بیماریوں، آمدنی، جسمانی سرگرمی اور بنیادی ذاتی کام انجام دینے کی صلاحیت جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی روزمرہ کاموں میں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد میں موت کا خطرہ تقریباً دوگنا پایا گیا۔

محققین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ روزمرہ کاموں میں دشواری موت کا سبب بنتی ہے۔ صحت کے دیگر مسائل، کمزوری، غذائی کمی اور سماجی تنہائی بھی نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو وہ کام مشکل لگنے لگیں جو پہلے آسانی سے انجام دیتا تھا تو اس تبدیلی کی وجہ جاننے اور بروقت مناسب مدد فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

Exit mobile version