ملائیشیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ورزش کے دوران چاکلیٹ کی خوشبو سونگھنے سے بعض افراد کی جسمانی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے اور وہ زیادہ دیر تک ورزش جاری رکھ سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف ملایا کے محققین نے 23 صحت مند مردوں پر تحقیق کی جو کم از کم دو سال سے باقاعدگی سے وزن اٹھانے کی ورزش کررہے تھے۔ تمام شرکا نے مختلف دنوں میں تین الگ تجربات میں حصہ لیا۔
ایک تجربے میں شرکا کو زیادہ مقدار میں خالص چاکلیٹ کی خوشبو سونگھائی گئی، دوسرے میں دودھ والی چاکلیٹ کی خوشبو دی گئی جب کہ تیسرے تجربے میں پانی پر مبنی ایک محلول استعمال کیا گیا۔
شرکا نے ورزش سے قبل اور مختلف وقفوں کے دوران 30 سیکنڈ تک متعلقہ خوشبو سونگھی جس کے بعد انہیں ٹانگوں کو مشین کے ذریعے سیدھا کرنے کی ورزش اس وقت تک کرنا تھی جب تک وہ مقررہ تعداد میں ورزش مکمل نہ کرسکیں۔
نتائج میں سامنے آیا کہ خالص چاکلیٹ کی خوشبو سونگھنے والے افراد نے پانی والے محلول کے مقابلے میں اوسطاً 18 بار زیادہ ورزش کی جب کہ دودھ والی چاکلیٹ کی خوشبو کے دوران یہ فرق تقریباً 9 بار رہا۔
خالص چاکلیٹ کی خوشبو کے ساتھ شرکا نے ورزش سے پہلے بھوک میں کمی اور پیٹ بھرا ہونے کا زیادہ احساس بھی ظاہر کیا تاہم محققین یہ ثابت نہیں کرسکے کہ بھوک میں کمی ہی بہتر کارکردگی کی براہ راست وجہ تھی۔
تحقیق کے مطابق دودھ والی چاکلیٹ کی خوشبو کے نتائج مختلف تھے کیونکہ اس کے باوجود کہ اس خوشبو نے بھوک میں واضح کمی نہیں ،کی شرکا نے پھر بھی زیادہ ورزش کی۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس کی ممکنہ وجوہات میں ذہنی توقع، ورزش کے لیے تحریک اور چاکلیٹ کی خوشبو سے جڑی سابقہ یادیں یا احساسات شامل ہوسکتے ہیں تاہم ان امکانات کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
تحقیق میں شرکا نے ورزش کو زیادہ مشکل محسوس کرنے کی واضح شکایت بھی نہیں کی تاہم خوشبوؤں کے اثرات کو سمجھنے کے لیے دماغی سرگرمی یا جسم میں پیدا ہونے والے ہارمونز کے ردعمل کا جائزہ نہیں لیا گیا۔
محققین نے واضح کیا کہ یہ ایک محدود اور ابتدائی تحقیق ہے جس میں صرف کم عمر اور باقاعدگی سے وزن اٹھانے کی ورزش کرنے والے مرد شامل تھے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ چاکلیٹ کی خوشبو ہر شخص یا ہر قسم کی ورزش میں کارکردگی بہتر بناسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دلچسپ مشاہدے کی تصدیق کے لیے زیادہ بڑے پیمانے پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
