ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کام کے دنوں اور چھٹی کے دنوں میں کھانے کے اوقات میں فرق مردوں میں دل کے امراض کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہوسکتا ہے جب کہ خواتین میں ایسی واضح تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
فرانس اور اسپین کے ماہرین نے صحت سے متعلق ایک جاری تحقیق میں شامل ایک لاکھ 4 ہزار 806 بالغ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ شرکا کی صحت کا اوسطاً 8 سال سے زائد عرصے تک جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں ہفتے کے معمول کے دنوں اور ہفتے کے اختتامی دنوں میں کھانے پینے کے اوقات کا موازنہ کیا گیا اور ان کا تعلق دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں سے دیکھا گیا۔
ماہرین نے ہفتے کے عام دنوں اور ہفتے کے اختتام پر چھٹی کے دنوں میں کھانے کے اوقات کے درمیان فرق کو ایک مخصوص پیمانے کے ذریعے جانچا۔ نتائج کے مطابق مردوں میں کھانے کے اوقات میں جتنا زیادہ فرق پایا گیا، دل کے امراض کا خطرہ بھی اتنا ہی زیادہ دیکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق کھانے کے اوقات میں ہر ایک گھنٹے کے اضافی فرق کے ساتھ مردوں میں دل اور خون کی شریانوں کے امراض کی شرح میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا جب کہ دل کی شریانوں کی بیماریوں جن میں دل کا دورہ بھی شامل ہے، کی شرح 21 فیصد زیادہ پائی گئی۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہفتے کے آخری دنوں پر معمول سے پہلے کھانا کھانے والے افراد میں خطرے کی سطح زیادہ تھی تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ اس تعلق کی حتمی وجہ ابھی ثابت نہیں ہوئی۔
محققین کے مطابق نتائج خوراک کے معیار، سونے کے دورانیے، سونے کے وقت اور ہفتے کے عام دنوں اور ہفتے کے اختتامی دنوں کے درمیان نیند کے معمول میں فرق کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کے اوقات میں مسلسل بے قاعدگی جسم کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی میں خلل ڈال سکتی ہے۔ یہ اندرونی نظام جسم کے اہم افعال، ہاضمے اور تحول کو تقریباً 24 گھنٹے کے معمول کے مطابق منظم کرتا ہے۔
تحقیق میں خواتین کے لیے کھانے کے اوقات اور دل کے امراض کے درمیان واضح تعلق نہیں ملا۔ محققین کے مطابق مردوں اور خواتین کے درمیان ہارمونز اور جسم میں غذائی اجزا کے استعمال کے طریقہ کار کا فرق اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتا ہے۔




















