Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہڈیوں کی کمزوری دماغی تنزلی کی رفتار بڑھا دیتی ہے، تحقیق

اس تحقیق میں مجموعی طور پر 715 افراد نے حصہ لیا

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں کئی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں ان ہی میں ہڈیوں کا کمزور ہونا اور دماغ کی کارکردگی کا سست پڑ جانا بھی شامل ہے تاہم حال ہی کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمزور ہڈیاں دماغی عمر رسیگی کی رفتار کو بڑھا دیتی ہیں۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے محققین کی سربراہی میں ایک ٹیم نے ریڑھ کی ہڈی میں ہڈیوں کی معدنی کثافت میں کمی اور ذہنی صلاحیتوں میں تنزلی کی علامات کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ہڈیوں کا کمزور ہونا دماغ کی تیز رفتار عمر رسیدگی کی علامات سے تعلق رکھتا ہے۔ ان علامات میں دماغ کے سفید مادے کی ساخت میں تبدیلیاں اور ذہنی صلاحیتوں میں نسبتاً تیزی سے آنے والی کمی شامل ہیں۔

اس تحقیق میں مجموعی طور پر 715 افراد نے حصہ لیا ان کا ڈیٹا پہلے ہی سے جاری صحت کے ایک طویل مدتی تحقیقی منصوبے کے تحت جمع کیا گیا تھا۔

سینے کے اسکین کے علاوہ، ان افراد کے سوچنے، سمجھنے اور یادداشت کی صلاحیت جانچنے کے لیے ٹیسٹ بھی لیے گئے تھے۔ کئی سال بعد ان کے دماغ کے اسکین کیے گئے اور ذہنی صلاحیتوں کی جانچ کے لیے مزید ٹیسٹ بھی لیے گئے۔

سینے کے کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی سی ٹی اسکین سے ہڈیوں کی معدنی کثافت معلوم کرنے کے لیے محققین نے مصنوعی ذہانت  پر مبنی ایک خصوصی الگورتھم استعمال کیا۔

ہڈیوں کی معدنی کثافت سے مراد ہڈیوں میں کیلشیم جیسے معدنی اجزا کی مقدار ہے اگر ہڈیوں میں ان معدنی اجزا کی مقدار کم ہو جائے تو ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ دماغ کے بعض حصوں میں ہڈیوں کی معدنی کثافت کم ہونے کا تعلق سفید مادے میں زیادہ تعداد میں روشن دھبوں سے تھا۔ یہ دھبے دماغ کے اسکین میں روشن مقامات کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں اور بافتوں کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: والدین بننا بڑھاپے میں بھی دماغ کو جوان رکھنے میں مددگار

ہڈیوں کی کم معدنی کثافت کا دماغ کے بعض دوسرے حصوں میں سفید مادے کی ساخت سے متعلق ایک پیمانے، یعنی فریکشنل اینیسوٹروپی  سے بھی تعلق پایا گیا۔ یہ پیمانہ دماغ کے سفید مادے میں پانی کی حرکت کی سمتوں کی بنیاد پر اس کی ساختی سالمیت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس پیمانے میں تبدیلیاں دماغ کے سفید مادے کی ساخت میں خرابی کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ، محققین نے یہ بھی پایا کہ ہڈیوں کی معدنی کثافت جتنی کم تھی، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت جانچنے والے ٹیسٹوں میں اسکور کی کمی بھی اتنی ہی زیادہ تیزی سے ہونے سے تعلق رکھتی تھی۔

محققین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کمزور ہڈیاں براہِ راست ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا سبب بنتی ہیں۔اس کے بجائے زیادہ امکان یہ ہے کہ کوئی تیسرا مشترکہ عامل ہڈیوں اور دماغ، دونوں کی تنزلی میں کردار ادا کر رہا ہو۔

اس تحقیق کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ شرکا کی صحت اور ذہنی صلاحیتوں کا کئی سال تک جائزہ لیا گیا۔ تاہم، یہ جاننے کے لیے مزید طویل مدتی تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا دماغ کی تیز رفتار عمر رسیدگی کی یہ علامات مستقبل میں ڈیمنشیا  جیسی باقاعدہ تشخیص ہونے والی بیماریوں میں تبدیل ہوتی ہیں یا نہیں۔

تاہم اس طرح کی پیش گوئیوں کو قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ابھی مزید ڈیٹا جمع کرنے اور اس کا تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ ہڈیوں کی کم معدنی کثافت اور دماغ کی ساخت میں تبدیلیوں اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے کمی کے درمیان تعلق موجود ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ ثابت نہیں ہوا کہ کمزور ہڈیاں براہِ راست دماغ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ مزید تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا ہڈیوں کی کثافت کو مستقبل میں دماغی صحت کے خطرات کی ابتدائی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

Exit mobile version