گلگت بلتستان میں واقع مشکل ترین پہاڑ راکا پوشی کی چوٹی پر کئی روز سے پھنسے ایک پاکستانی اور دو غیر ملکی کوہ پیماؤں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر نگر ذوالقرنین خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں لکھا کہ کے راکا پوشی پر پھنسے تینوں کوہ پیماؤں کو پاکستان آرمی کے جوانوں نے ریسکیو کیا اور انہیں گلگت منتقل کر دیا گیا ہے۔
Pak Army has rescued all 3 stranded climbers at Rakaposhi n shifted dm to Gilgit.We’re grateful to everyone n Especially @AbdulKhalidPTI @OfficialDGISPR @sajid_sadpara @jamilnagri , @ZaeemZia ,our Dear Climbers from Hunza, our Public n Pol Reps.
Pak Army Zindabaad 🇵🇰 @Z_Sewag pic.twitter.com/fI3ORrAo3U— Office of Deputy Commissioner Nagar (@DCNagarGB) September 15, 2021
ڈپٹی کمشنر نگر ذوالقرنین خان کے مطابق چیک ری پبلک کے دو اور پاکستان کا ایک کوہ پیما 6900 میٹر بلندی پر5 روز سے پھنسے ہوئے تھے جنہیں اب ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے پانچ روز سے پھنسے ان کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کےلئے کئی دن سے کو ششیں جاری تھی لیکن موسم خراب ہونے کے باعث اس کام میں تاخیر ہوئی اور آج اس ریسکیو مشن میں کامیابی مل گئی۔

چند روز قبل راکاپوشی سر کرنے والے ایک پاکستانی اور دو غیر ملکی کوہ پیما پہاڑ پر پھنس گئے تھے۔
ڈپٹی کمشنراور انتظامیہ مسلسل ان کوہ پیماؤں سے رابطے میں تھے ، خراب موسم کے باعث 6900 میٹر کی بلندی تک ہیلی کاپٹر کا پہنچا مشکل تھا۔
ڈپٹی کمشنرکا کہنا تھا کہ کوہ پیماؤں کو کچھ نیچے تک آنے کے لیے کہا گیاتھا جبکہ کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کے لیے زمینی کوشش بھی کی جا رہی تھی ۔
اس سے قبل ڈی سی نگر کا کہنا تھا کہ ایک غیر ملکی کوہ پیما ہائٹ فوبیا کا شکار ہوگیا ہے۔
پاکستانی کو پیما واجد اللہ نگری نے جمہوریہ چیک کے ان 2 کوہ پیماؤں کے ساتھ 8 ستمبر کی شام راکا پوشی کو سر کیاتھا۔




















