Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایرانی پروازیں روکیں تو پھر سب کے لیے فضائی راستے بند ہوں گے، ایران

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی متعدد بین الاقوامی پروازیں پہلے ہی متاثر ہوچکی ہیں

ایران نے اپنی فضائی سروسز پر ممکنہ پابندیوں کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی پروازوں اور ایئرپورٹ سہولیات تک رسائی محدود کی گئی تو خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی فضائی آپریشن جاری رکھنا مشکل بنا دیا جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خطے میں فضائی سفر یا تو سب کے لیے کھلا ہوگا یا پھر کسی کے لیے نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پروازیں چلانے اور ایئرپورٹ سروسز استعمال کرنے سے روکا گیا تو خطے کے کسی دوسرے ملک کو بھی ان سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

محمد مخبر نے امریکا کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف پالیسی اختیار کرنے والے ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ایسے اقدامات کو فراموش نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ایران کا مؤقف واضح ہے اور فضائی سفر کے حوالے سے کسی بھی امتیازی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے رواں ماہ ایرانی ایوی ایشن سے متعلق درجنوں اداروں اور 27 ایرانی ایئرلائنز پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن نے ان ممالک کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کا عندیہ دیا ہے جو ایرانی ایئرلائنز کو ایئرپورٹ، لینڈنگ اور ٹیک آف کی سہولیات فراہم کریں گے۔

امریکا نے ان کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کی دھمکی دی ہے جو ایرانی ایئرلائنز کو ایندھن، گراؤنڈ ہینڈلنگ، ٹکٹنگ یا دیگر سفری خدمات فراہم کریں گی۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایران کی کمرشل ایوی ایشن کو مبینہ طور پر اسلحہ، اہلکاروں اور دیگر سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم تہران نے ان الزامات اور پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنی شہری فضائی آمدورفت پر دباؤ قرار دیا ہے۔

امریکی پابندیوں کے بعد متعدد ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستوں نے ایرانی پروازوں کی آمد و رفت معطل یا منسوخ کردی ہے۔

تازہ پیش رفت میں عراق کے نجف انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے ایران سے آنے اور ایران جانے والی تمام پروازیں 25 ستمبر کی رات 2 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے بھی ایرانی ایئرلائنز کی آنے اور جانے والی پروازیں تاحکم ثانی روک دی تھیں، جبکہ دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے بھی پروازیں منسوخ کیے جانے کے اعلانات سامنے آچکے ہیں۔

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی متعدد بین الاقوامی پروازیں پہلے ہی متاثر ہوچکی ہیں، جس کے باعث بعض مسافروں کو ترکیہ، آرمینیا اور دیگر ممالک کے راستے زمینی سفر اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔

ایرانی عہدیدار کی تازہ دھمکی نے خطے میں فضائی رابطوں اور ایران کی بین الاقوامی پروازوں سے متعلق کشیدگی مزید نمایاں کردی ہے۔

متعلقہ خبریں