عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ دو رکنی بنچ کے فیصلے تک یہ عدالت کوئی فیصلہ جاری نہیں کرے گی۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کراچی سے مبینہ مغویہ دعا زہرا کاظمی سے ملزم ظہیر کی ملاقات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
جسٹس عبدالمبین لاکھو نے سماعت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ فیملی سے ملاقات کا کیس ہے؟ جس پر وکیل مدعی نے جواب دیا کہ یہ ملزم سے ملاقات کی درخواست ہے۔
ملزم ظہراحمد کے وکیل نے کہا کہ یہ شوہر سے اہلیہ کی ملاقات کی درخواست ہے جس پروکیل مدعی نے کہا کہ جب تک کسٹڈی کی درخواست زیر سماعت ہے، اس درخواست کو نہ سنا جائے۔
ملزم ظہراحمد کے وکیل نے کہا کہ لڑکی نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ مرضی سے شادی کی۔ جس پرعدالت نے مدعی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا لڑکی نے کہا کہ شوہر سے نہیں ملنا چاہتی؟
جسٹس عبدالمبین لاکھو نے مدعی کے وکیل سے پھر استفسار کیا کہ آپ سیدھا سا جواب دیں کیا لڑکی نہیں ملنا چاہتی؟
وکیل مدعی نے جواب دیا کہ لڑکی شیلٹر ہوم میں ذہنی بیماری، تناؤ کا شکار ہے۔
عدالت نے کہا کہ دو رکنی بنچ کے فیصلے تک یہ عدالت کوئی فیصلہ جاری نہیں کرے گی۔ پہلے دو رکنی بینچ کے روبرو درخواست میں فیصلہ آنے دیا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے مغویہ بچی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
