امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں مل کر کراچی کے عوام پر شب خون مار رہے ہیں، جماعت اسلامی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
ادارہ نورحق میں بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنے کی نئی سازش اور ایم کیو ایم کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 15 جنوری کو الیکشن کمیشن اور حکومت کی جانب سے اعادہ کیا گیا ہے کہ الیکشن ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ الیکشن ہوں گے اور دوسری جانب سازش جاری ہے، عوام میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ابھی کچھ مسائل ہے جب کہ گورنر ہاوس ، سی ایم ہاوس ہو یا بہادر آباد ہو بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ حلقہ بندیاں نہیں کی گئی ہے، 10 پارٹیاں اگر ایک ہوگئی ہیں تو اس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے، اگر ایم کیو ایم اور اس کی دھڑیں ریاست سے ٹکر لینے کی بات کررہی ہے تو اس کو کون طاقت دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیں گے، تمام دھڑوں کے انضمام کے بعد ایم کیو ایم کا اعلان
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فوج اور رینجرز طلب کررہا ہے تو ایسی پارٹیاں جن کو عوام نے مسترد کردیا ہے اس میں اتنی جرات کہاں سے آگئی، ہم دیکھیں گے کہ یہ کیسے انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ مہاجروں کا استحصال کیا ہے، انہی لوگوں نے مہاجروں کی لاشیں بوریوں میں بند کرکے مہاجروں کو بڑی تعداد میں مارا ہے، کچھ لوگ ہیں جو ان کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ آرمی چیف اور حکومت ایم کیو ایم کے اس بیان کا نوٹس لیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس اتنی جرات ہے تو عوام کے پاس جائیں اور ووٹ مانگیں، جماعت اسلامی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں مل کر کراچی کے عوام پر شب خون مار رہے ہیں، بظاہر دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہیں، اندرون خانہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ انتخابات سے ہار اور شکست کی وجہ سے فرار کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، اگر حکومت نے ایم کیو ایم کی سازش کو کامیاب بنانے کی کوشش کی تھی تو ہم ہر جگہ سازش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا مروڑ اس وقت کہاں تھا جب عمران خان کراچی آئے تھے، رجیم چینج کے مواقع پر حلقہ بندیوں کا مروڑ کیوں پیدا نہیں ہوا، 35 سال سے کراچی اور حیدرآباد کے لوگوں کا استحصال کیا جارہا ہے جب کہ عوامی رائے کی سروے کے مطابق کراچی کے عوام پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مسترد کرچکے ہیں۔


















