Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لیسکوکمپنی میں لائن سپریٹنڈنٹ بھرتی ہونے والے انجینئرکےمقدمےکا فیصلہ جاری

سپریم کورٹ نے لیسکوکمپنی میں لائن سپریٹنڈنٹ بھرتی ہونے والے انجینئرکے مقدمے کا فیصلہ جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصورعلی شاہ نے خود مختار سرکاری اداروں میں بھرتی کے معیار پر دائر مقدمے کا فیصلہ تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے لیسکوکمپنی میں لائن سپریٹنڈنٹ بھرتی ہونے والے انجینئرکے مقدمے کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تعلیم رکھنے والا کم تعلیم والے عہدے کا زیادہ حق دار نہیں۔ لائن سپریٹنڈنٹ کے عہدے پر انجینئرکی تعیناتی سے ادارے کی تنظیمی درجہ بندی متاثر، کام میں خلل پڑے گا

عدالتِ عظمٰی نے تحریری فیصلے میں کہا کہ ادارے نے کس شخص کو بھرتی کرنا ہے اور کس کو نہیں، فیصلہ عدالت نہیں کرسکتی۔  ادارے کا زیادہ اہلیت رکھنے والے کو تعینات نہ کرنا امتیازی یا من مانا فیصلہ نہیں۔

تحریری فیصلے مین جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کمپنی پالیسی پر پورا نہ اترنے والا چاہے کتنا ہی زیادہ تعلیم یافتہ کیوں نا ہو بھرتی نہیں ہوسکتا۔ عدالت کا کام نہیں کہ وہ کسی امیدوار کی اہلیت کی جانچ پڑتال کرے۔ زیادہ اہل کو کم اہلیت والے عہدے پر تعینات کرنے کے سماجی اثرات بھی ہوتے ہیں

سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ کم تعلیم والے لوگوں کوروزگارکے مواقع سے محروم جبکہ اعلیٰ اہلیت کے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

واضح رہے کہ لیسکو نے 2015ء میں لائن سپریٹنڈنٹ بھرتی ہونے والے انجینئر وقاص اسلم کو بھرتی کرنے سے انکار کیا۔ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے پرعدالت نے انجینئرکو لائن سپریٹنڈنٹ بھرتی کرنے کا حکم دیا۔

لیسکو نے انجینئر کو لائن سپریٹنڈنٹ بھرتی کرنے کا عدالتی حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version