Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغانستان، خون جما دینے والی سردی سے ہلاکتوں کی تعداد 124 ہو گئی

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ پندرہ دن کے دوران منجمد درجہ حرارت میں کم از کم 124 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ریاستی وزارت برائے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ ایک دہائی کے سرد ترین موسم نے 124 افراد کی جان لے لی ہے اور تقریباً 70,000 مویشی بھی ہلاک ہو گئے ہیں.

طالبان کی جانب سے افغان خواتین پر غیر سرکاری تنظیموں کے لیے کام کرنے پر پابندی کے بعد کئی امدادی اداروں نے حالیہ ہفتوں میں اپنی کارروائیاں معطل کر دیں۔

طالبان کے ایک وزیر نے کہا کہ ہلاکتوں کے باوجود حکم نامہ تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے قائم مقام وزیر ملا محمد عباس اخوند نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ افغانستان کے بہت سے علاقے اب برف باری سے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔

ملا محمد عباس اخوند نے کہا کہ ریسکیو کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں بھیجے گئے تھے لیکن وہ پہاڑی علاقوں میں نہیں اتر سکے۔

قائم مقام وزیر نے کہا کہ اگلے 10 دنوں کی پیشن گوئی سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجہ حرارت گرم رہے گا۔ لیکن وہ اب بھی افغانوں اور ان کے مویشیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔

ملا اخوند نے کہا کہ زیادہ تر لوگ جنہوں نے سردی سے اپنی جانیں گنوائیں وہ چرواہے یا دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ تھے۔ انہیں صحت کی دیکھ بھال تک رسائی نہیں تھی۔

قائم مقام وزیر ملا محمد عباس اخوند نے اب بھی پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پہاڑوں سے گزرنے والی زیادہ تر سڑکیں برفباری کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں۔

ملا محمد عباس اخوند نے مزید کہا کہ شدید برفباری کے باعث کاریں وہاں پھنس گئی ہیں اور منجمد درجہ حرارت میں مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version