انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس کے معاملے میں بائیکاٹ کی دھمکی نہ دے۔
غیر ملکی میڈیا کی خبروں کے مطابق بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ اگر روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس مقابلہ کرتے ہیں تو پیرس 2024 کے بائیکاٹ کی دھمکیاں ترک کردے۔
آئی او سی کے صدر تھامس باخ نے یوکرین کی اولمپک کمیٹی کو بتایا ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں انتہائی افسوسناک ہیں۔
واضح رہے کہ یوکرین روس کے حملے پر دونوں ممالک کے کھلاڑیوں پر پابندی کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی امید کر رہا ہے۔
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس کے لیے غیرجانبدار کے طور پر مقابلہ کرنے کے لیے ایک راستہ تلاش کرے گا.
یوکرین کے وزیر کھیل وادیم گٹسیٹ جو اس کی اولمپک کمیٹی کے صدر بھی ہیں، نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک پیرس گیمز کا بائیکاٹ کر سکتا ہے اور کئی دیگر یورپی ممالک نے بھی پابندی کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی ایتھلیٹس کو 2024 کے اولمپکس میں حصہ لینے کی اجازت دینا یہ ظاہر کرنے کے مترادف ہوگا کہ دہشت گردی کسی طرح قابل قبول ہے.
یہ بھی پڑھیں : پیرس اولمپکس میں برقی فضائی ٹیکسیاں استعمال ہونے کا امکان
آئی او سی کے صدر تھامس باخ کی طرف سے گٹسیٹ کو لکھے گئے خط میں آئی او سی کے صدر کا کہنا ہے کہ یوکرائنی حکام کے تبصرے جن میں روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس کو جنگ کو فروغ دینے کی اجازت دینے کا مشورہ دیا گیا ہے وہ ہتک آمیز ہیں۔
آئی او سی کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ بائیکاٹ کی دھمکی دینا قبل از وقت ہے کیونکہ ابھی تک ٹھوس شرائط میں غیر جانبدار کے طور پر روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس کی شرکت پر بات نہیں کی ہے۔
آئی او سی کے صدر تھامس باخ نے یوکرین پر الزام عائد کیا وہ بین الاقوامی فیڈریشنز، آئی او سی کے اراکین اور دیگر کھیل کے اداروں پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ روسی اور بیلاروسی گیمز میں حصہ نہ لے سکیں۔
