Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہوسٹل میں دیا جانے والا پراٹھا سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

گھر کے کھانے کی بات کی جائے تو اس کی اہمیت ہی الگ ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کوئی گھر کے کھانے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔

ایسی ہی ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی جسے ایک ہوسٹل کی طالبہ نے پوسٹ کیا ہے۔

طالبہ کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی ویڈیو میں ایک پراٹھے کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبہ پراٹھا کھانے کی خوائش میں مستقل پراٹھا توڑنے کی کوشش کررہی ہے لیکن مستقل نا کام ہو رہی ہیں۔

وائرل ہونے والی پوسٹ کی کیپشن میں واضح طور بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو ایک ہوسٹل کی ہے جہاں ایسا ناشتہ دیا گیا ہے کہ جس کا پراٹھا ہاتھ سے کیا سلپ پر مارنے تک سے نہیں ٹوٹ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو پر صارفین کی جانب سے متعدد کمنٹس کیے جا رہے ہیں۔

ایک صارف نے اس ویڈیو پر کمنٹ کرتے ہوئے کہا کہ کبھی نہ ٹوٹنے والا پراٹھا۔

جبکہ ایک صارف نے کہا کہا یہ دو دن پُرانہ پراٹھا لگ رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

اس سے قبل بھی ایک ہوسٹل کے کھانوں سے پریشان لڑکی کی پوسٹ وائرل ہوئی تھی۔

:مزید پڑھیں

http://staging.bolnews.com/urdu/amazing/2022/12/961724/

وائرل ہونے والی پوسٹ میں دیکھا گیا تھا کہ ایک لڑکی ہوسٹل سے جب اپنے گھر آنے لگتی ہے تو اپنی من پسند کے کھانوں کی فہرست ماں کو بتا کر وہ تمام تر ڈشز بنانے کی خوائش ظاہر کر دیتی ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ بچوں  کا اپنے والدین سے رشتہ اتنا پاکیزہ ہوتا ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن جب بات بیٹیوں کی آ جائے  تو بات ہی الگ ہو جاتی ہے کیونکہ بیٹی ہر ایک عزیز ہوتی ہے۔

وائرل ہونے والی پوسٹ میں پانچ سال سے ہوسٹل میں رہنے والی بچی نے ہوسٹل سے واپسی پروالدین سے مزے مزے کے کھانا کھانے کی فرامائش کی تھی۔

یہ ہی نہیں بلکہ اس بچی نے ان کھانوں کی فہرست بھی شئیر کی جس کو کھانے کی وہ خواہش رکھتی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس دلچسپ پوسٹ کو صارفین کی جانب سے بہت پسند کیا گیا تھا۔

جبکہ بہت سے صارفین کی جانب سے اس پوسٹ پر متعدد کمنٹس بھی کیے۔

ایک صارف نے اس پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعی ماں کے ہاتھ کے بنے کھانوں کی بات ہی الگ ہوتی ہے جبکہ ایک صارف نے کہا کہ میں اس بچی کا درد سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں بھی ہوسٹل کی زندگی گزار چکا ہوں۔

واضح رہے کہ اکثر ہوسٹل سے منسلک بہت سے پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں جس میں سرِ فہرست وہاں پر د یے جانے والے بد ذائقہ کھانوں کا ذکر لازمی ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں