Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کتنے معاونین لگانے ہیں یہ استحقاق وزیراعظم کا نہیں ہے، لاہور ہائی کورٹ

لاہورہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ کتنے معاونین لگانے ہیں یہ استحقاق وزیراعظم کا نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں وفاقی کابینہ کا حجم گیارہ فیصد کی بجائے 23 فیصد تک بڑھانے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

لاہورہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے سماعت کی۔ درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔

وکیل اظہرصدیق نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ بے بنیاد تعیناتیاں کالعدم قراردے چکی۔ جس جسٹس علی باقرنجفی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں طریقہ کار تو واضح نہیں۔

اظہرصدیق نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں میرٹ اور شفافیت کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ تعیناتیوں کا کوئی میکنزم نہ ہونا ہی میرٹ کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے تو پارلیمنٹ کو رولز وضع کرنے کی ہدایت کی۔ ابھی تک تو رولز نہیں بنائے گئے۔

وکیل نے بتایا کہ 44 اسپیشل اسسٹنٹس رکھے گئے ہیں جو خزانے پر بوجھ ہیں جس پرجسٹس باقرعلی نجفی نے کہا کہ جتنے ادارے ہیں سب کاایک معاون خصوصی تو ہوتا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل عثمان غنی نے کہا کہ معاون خصوصی اور مشیروں کی تعیناتیاں رولز آف بزنس کےتحت کی گئیں۔ جس پر عدالت نے کہا کہ کتنے معاونین لگانے ہیں یہ استحقاق وزیراعظم کا نہیں ہے۔

جسٹس باقرعلی نجفی نے کہا کہ قانون میں تو سات اسسٹنٹس کی قدغن ہے۔ یہ اتحادی حکومت ہے کیا اسی لئے معاونین زیادہ رکھے گئے۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ مشیروں کی تعداد کا کہیں ذکر نہیں جس پرپھر عدالت نے کہا کہ اگر وزرا کی تعداد کا موجود ہے تو مشیروں کی تعداد کی کوئی تو حد ہوگی۔ پارلیمانی طرز حکومت میں تو نمائندگی عوامی نمائندے ہی کرسکتے ہیں۔ کیا ان کی تعیناتی کی بنیاد تو تجربہ ہی ہوگی۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ معاونین خصوصی کابینہ کا حصہ نہیں ہوتے نہ ہی انہیں کابینہ اجلاس میں بلایاجاتا ہے۔ جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ درخواست گزارکا تو کہنا ہےکہ انہیں کابینہ اجلاس میں بلایاجاتا ہے۔

سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ بالکل معاونین کو خصوصی دعوت پر ہی کابینہ اجلاس میں بلایاجاتا ہے جبکہ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے پاس معاونین کو کابینہ اجلاس میں بلانے کے دعوت نامے موجود ہیں۔ ملک میں عدالتیں ہیں تو ہم ہیں۔

وکیل اظہرصدیق نے کہا کہ لاہورہائی کورٹ نے الیکشن کا فیصلہ کیا مگر یہ سپریم کورٹ کےججز کو دباؤ میں لانے کےلئے اسکینڈلائز کررہے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت چھ مارچ تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version