لاہورہائی کورٹ نے 3 ایم پی اوکے تحت نظر بند پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کرنے کاحکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے پنجاب سے گرفتار320 رہنماؤں اور کارکنوں کی نظربندیوں کےاحکامات کےخلاف کیس کی سماعت ہوئی، لاہورہائی کورٹ نے 3 ایم پی او کے تحت نظر بند پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے نظربندی کےاحکامات معطل کردیے۔
عدالتِ عالیہ نے حکومت پنجاب اور دیگر فریقین کو 7مارچ کوجواب طلب کرلیا۔
سماعت کے دوران جسٹس طارق سلیم شیخ نے پی ٹی آئی کے وکلا سے کہا کہ آپ نے خود تحریک شروع کی تو گرفتاری غیر قانونی کیسے ہوگئی؟
جیل بھرو تحریک کے دوران کارکنان اور رہنماؤں کی گرفتاریاں
عدالت نے نظربندی کے احکامات معطل کر دیئے#BOLNews #JailBharoTehreek pic.twitter.com/t1XaN87gZC— BOL Network (@BOLNETWORK) March 3, 2023
پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ سیاسی قیدی ہیں ان کو کریمنلز کی طرح نہیں رکھا جاسکتا جس پرعدالت نے کہا کہ اگر سیاسی ورکر کہتے ہیں کہ انہیں گرفتار کرلیا جائے تو پکڑ لیا جاتا ہے۔ اگر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں چھوڑ دیا جائے تو ایک منٹ بھی رکھنا غیر قانونی ہے۔
عدالت نے پندرہ منٹ میں سرکاری وکیل کو حکومت پنجاب سے ہدایات لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو اس کی مرضی کےبغیر غیر قانونی طور پر ایک منٹ کےلیے بھی نظر بند نہیں رکھا جاسکتا۔ جلدی پتا کریں نظربند افراد کےلئے قانون کی نظر میں ایک ایک منٹ قیمتی ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے پنجاب سےگرفتار 320رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندیوں کےاحکامات کےخلاف کیس میں پاکستان تحریک انصاف کےوکیل فواد چوہدری اور ظظر اقبال منگن دلائل دیے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں کہاا گیا کہ جیل بھرو تحریک میں تحریک انصاف کے گرفتاری دینے والے رہنماؤں اور کارکنوں کو نظربند کردیا گیا۔ تین سو بیس رہنماؤں اور کارکنوں کی نظربندیوں کےاحکامات غیر قانونی طور پر جاری کیے گئے۔ قانونی طور پر ڈپٹی کمشنرز کو نظر بندی کےاحکامات جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کےمطابق سرکاری افسر حکومت نہیں۔ صوبائی کابینہ ہی نظربندی احکامات جاری کرسکتے ہیں۔ استدعا ہے کہ عدالت تحریک انصاف کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی نظربندی کےاحکامات غیر قانونی قرار دے اورعدالت نظر بند رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا بھی حکم دے۔
