سابق وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم بھی وہی غلطیاں کر رہے ہیں جو عمران خان نے کیں۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختایارات صوبوں کو منتقل ہوئے۔ اختیارات تو مل گئے لیکن نچلی سطح پر فنڈز نہیں پہنچتے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سندھ حکومت زرعی ٹیکس جمع نہیں کرتی۔ صوبے ایک ہزار ارب روپے تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ وفاقی اخراجات کو کم کرنا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ جب تیل سستا تھا تو سبسڈی دے کر72 ارب روپے کا نقصان کردیا گیا ۔ جب آئی ایم ایف سے قسط آئی تو حفیظ شیخ کو ہٹا دیا گیا۔ دو میرے آنے سے پہلے اور ایک میرے آنے کے بعد غلطی ہوئی۔
سابق وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ میں نیب کو چیلنج کرتا ہوں اس سے سستا گیس ٹرمینل بتا دیں۔ ہم بھی وہی غلطیاں کررہے ہیں جو عمران خان نے کیں۔ پاکستان آج 75 برس کی غلطیوں سے یہاں تک پہنچا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کورونا کے دوران آئی ایم ایف نے آسانی دی تو ہم نے غلطیاں کیں۔ عمران خان کی حکومت نے پٹرول کی قیمت کم کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ مشرف کے آخری سال میں معیشت کے حجم سے 8 فیصد زیادہ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ شوکت ترین پھر بھاگے بھاگے آئی ایم ایف کے پاس گئے اور منی بجٹ پیش کیا، شوکت ترین نے آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ پیش کیا۔
سابق وفاقی وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ 87 فیصد پاکستانیوں کو اتنی خوراک نہیں ملتی جتنی ملنی چاہیے تھی۔ ہم نے سات وزیراعظم گیارہ برسوں میں تبدیل کیے۔ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کو آنکھیں دکھائیں اوراب پھر ڈیل کر رہے ہیں۔
اس سے قبل میڈیا سےغیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے صحافی کے سوال آج معیشت بحالی کا حل دے رہے ہیں؟ پر انھوں نے جواب دیا کہ معیشت بحالی بہت مشکل کام ہے، معاشی بحالی کے لئے قربانیاں دینی ہونگی۔ اللہ رحم کرے ملک پر بہت مشکل وقت ہے۔
