دو شہریوں کی بازیابی کے معاملے پرعدالتِ عظمی نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دو لاپتا شہریوں کی بازیابی کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
سہراب گوٹھ سے والد کو گمشدگی کے خلاف بیٹے اسرار نے عدالت سے رجوع کرلیا جبکہ قائد آباد سے مسمات اختیار بی بی اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے عدالت پہنچ گئیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ میرے والد حسن گل کو یکم جولائی کو پولیس کی دوموںائلوں کے اہلکاروں اور سادہ کپڑوں والوں نے تحویل میں لیاہے۔ رابطہ کرنے پر پولیس نے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اینٹلیجنس ایجنسیوں سے معلومات کی جائیں اور عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
مسمات اختیار بی بی نے عدالت سے سامنے مؤقف اپنایا کہ 13جون کو بیٹے کو گھر میں گھس کر پولیس اہلکاروں نے بیٹے عابد کو اغواء کیا۔ بیٹے کی رہائی کے لیے پولیس نے 2لاکھ روپے طلب کیے۔ غریب خاتون ہوں،رقم ادا نہیں کرسکی،پولیس نے بیٹے کو لاپتا کردیا۔
والدہ نے درخواست میں استدعا کی کہ بار بار رابطے کے باوجود پولیس کچھ نہیں بتارہی، بیٹے کو عدالت طلب کیا جائے۔
درخواستوں میں ہوم سیکرٹری سندھ ، آئی جی ، ڈی آئی جی ملیر ایس ایس پی ملیر ایس ایچ او سہراب گوٹھ اور قائد آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
