Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ملٹری کورٹس میں شہریوں کے ٹرائل کا کیس؛ وفاقی حکومت کی فل کورٹ تشکیل دینےکی استدعا

ملٹری کورٹس میں شہریوں کے ٹرائل کے کیس میں وفاقی حکومت نے عدالتِ عظمٰی سے فل کورٹ تشکیل دینےکی استدعا کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا۔

31 صفحات پر مشتمل جواب اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع کروایا گیا ہے جس میں وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستیں ناقابلِ سماعت قراردینے کی استدعا کردی۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار ہائی کورٹس سے رجوع کرسکتے ہیں،  آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ آئین پاکستان سے پہلے سے موجود ہیں جنہیں آج تک چیلنج نہیں کیا گیا۔

وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اٹھائے گئے تمام اقدامات قانون کے مطابق درست ہیں،  سپریم کورٹ براہِ راست اس کیس کو نہ سنے،  اگر سپریم کورٹ نے درخواستیں خارج کردیں تو متاثرہ فریقین کا ہائی کورٹ میں حق متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب الیکشن کیس میں جسٹس یحییٰ آفریدی اس معاملے پر اپنی رائے دے چکے ہیں۔

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی استدعا کردی اور مؤقف اپنایا کہ فوجی عدالتوں کے خلاف کیس فل کورٹ کو سننا چاہیے، اس کیس کی سماعت کرنے والے جج جسٹس یحیٰی آفریدی بھی فل کورٹ تشکیل دینے کی رائے دے چکے ہیں، نو مئی کے واقعات میں منصوبہ بندی سے مسلح افواج کو نشانہ بنایا گیا۔

وفاقی حکومت نے مؤقف اپنایا کہ نو مئی کو سرکاری املاک اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں مجموعی طور پر دو ارب 53 کروڑ 91 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا،  فوجی تنصیبات کو ایک ارب 98کروڑ29لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ درخواستوں کے اندر انتہائی اہم حساس اور ملکی وقار کے معاملہ عدالت کے سامنے لایا گیا ہے، فوجی ودفاع تنصیبات پر حملہ براہ راست نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف پیش کیا کہ ائینی فریم ورک فوجی عمارتوں پر حملوں کرنے والوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت دیتا ہے، حالیہ واقعات میں شکیل آفریدی اور کلبھوشن یادیو کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ غیر ملکی عناصر لگاتار فوجی و نینشل سیکیورٹی کو کمزورکرنے کا کام کر رہے ہیں، تمام گزارشات کے تناظر میں 9 مئی کے افراد کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل مناسب اور اہم اقدام ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version