دس سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے پولیس رپورٹ پرعدم اعتماد کا اظہارکردیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دس سے زائد لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے پولیس رپورٹس پرعدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے کراچی سے لاپتا شہریوں کی دیگر صوبوں سے رپورٹ طلب کرلیں۔
عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور کشمیر سے لاپتا افرادکی کی تفصیلات حاصل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹونے کہا کہ بتایا جائے لاپتا افرادکی بازیابی کے لیے کیا کیا اقدامات کیے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ لاپتا شہری حیدر کا سراغ لگانے کے لیے ایف آئی اے اور دیگر کو خط لکھ دیے ہیں، حیدر کا پاسپورٹ بلاک ہے ٹریول ہسٹری معلوم نہیں ہوسکی۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے استفسارکیا کہ بتایا جائے پچھلی تاریخ سے لے کر اب تک کیا کیا اقدامات کیے گئے؟ فرضی رپورٹس اور خطوط کو چھوڑیں بتایا جائے اقدامات کیا کیا ہوئے؟
تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ لاپتا شہری محمود الحسن اور سعود الحسن نمازی تھے تیزی سے فون نمبر تبدیل کرتے تھے۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ نمازی ہونا اچھی بات ہے، لاپتا کیسے ہوئے؟ تفتیشی افسرڈی ایس پی ندیم نے جواب دیا کہ ہمارا گمان ہے وہ افغانستان چلے گئے جس پرعدالت نے کہا کہ گمان کو چھوڑو بندے تلاش کرکے عدالت کو بتاؤ۔
سندھ ہائی کورٹ نے شہری احمر بچلانی، خلیل الرحمن اور دیگر تلاش کرکےعدالت میں پیش کرنے اور وفاقی، صوبائی حکومت اور پولیس کو تین ہفتوں میں تازہ رپورٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
