Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پراسیکیوٹرجنرل پنجاب کیخلاف شوکازنوٹس کی کارروائی کی درخواست پرفیصلہ محفوظ

لاہور ہائی کورٹ نے پراسیکیوٹرجنرل پنجاب کیخلاف شوکازنوٹس کی کارروائی کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کےخلاف کارروائی روکنے کےحکم امتناعی میں توسیع کردی، عدالت نے استفسارکیا کہ کیا سیاسی حکومت کے جانے کےبعدایڈووکیٹ جنرل عہدے پر تعینات رہ سکتے ہیں۔ اسی معاملے کو پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی کےتناظر میں کیسے دیکھا جاسکتا ہے۔ کیا پراسیکیوٹرجنرل پنجاب کی تعیناتی کی کوئی اہلیت ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پاکستانی شہری، پینتالیس سالہ عمراور دس سالہ وکالت کا تجربہ ضروری ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب قانون کےمطابق اس عہدے کی اہلیت پر پورا اترتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل

وکیل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ حکومت کی خواہش تک ہی عہدے پر تعینات رہ سکتے ہیں۔  پراسیکیوٹرجنرل کا معاملہ ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتی کے معاملے سے مختلف ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کی تعیناتی مخصوص مدت کےلئے ہوتی ہے۔

وکیل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے دلائل دیے کہ عہدے کی معیاد کے مکمل ہونے تک پراسیکیوٹر جنرل عہدے پر تعینات رہ سکتے ہیں۔ پراسیکیوٹر جنرل کوسپیشل قانون میں درج طریقہ کار کےمطابق ہی عہدے سے ہٹایاجاسکتاہے۔ ہراسیکیوٹر، جنرل سرکاری ملازم نہیں اس لئے ان پر پیڈا ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ پراسیکیوٹر جنرل کےخلاف کاروائی کااختیار صرف وزہراعلی کو حاصل ہے۔

عدالتی معاون طارق کمال قاضی نے دلائل میں کہا کہ درخواست قابل سماعت ہے۔ میری نظر میں الیکشن ایکٹ ہی غیرقانونی ہے۔ اس ایکٹ میں واضع ہی نہیں ہےکہ نگران حکومت کیسے چلے گی۔ آئین کےتحت نگران حکومت کو حکومتی مشینری کو ری ڈیزائن کرنے کاکوئی اختیار نہیں۔

عدالتی معاون نے کہا کہ روازنہ کےامور نمٹانے کےنام پرنگران حکومت کو کھلی چھٹی نہیں دی جاسکتی۔  پراسیکیوٹر جنرل پنجاب پر پیڈا ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کے خلاف یکطرفہ کارروائی نہیں ہوسکتی۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو شفاف ٹرائل کا موقع ملنا چاہئیے۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب خود مختار رائے رکھ سکتاہے۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے سماعت کی جبکہ چوہدری خلیق الزمان کےوکیل احمد عمرثاقب نے دلائل دیے، کہا کہ پنجاب حکومت نے تین سالہ مدت کے لئے عہدے پر تعینات کیا۔ نگران حکومت نے مختلف مقدمات میں من پسند موقف عدالت پیش کرنے کی ہدائت کی۔ پراسیکیوٹر جنرل نے حکومت کو آگاہ کیا کہ وہ قانون کے تابع عدالتی معاونت کے پابند ہیں۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نگران حکومت نے آتے ہی سیاسی بنیادوں پر کام سے روکتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ نگران حکومت کو عہدے سے ہٹانے، معطل کرنے یا شوکاز نوٹس دینے کا اختیار نہیں۔  استدعاہے کہ عدالت معطلی اور شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عہدے پر بحالی کا حکم دے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version