نگران وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے کہا ہے کہ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات اور نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانا نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اسی وجہ سے کابینہ کے اجلاس کے بعد چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
نگران وزیر اطلاعات اور نشریات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ انتخابات میں پہلا ووٹ میں اور پھر میری کابینہ ڈالے گی۔
ایک سوال پر مرتضی سولنگی کا کہنا تھا کہ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اور نگران حکومت کا کام معاونت فراہم کرنا ہے، نگران حکومت شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہمارا اختیار نہیں کہ انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے یا پرانی مردم شماری کی بنیاد پر۔ نئی مردم شماری سے متعلق کیس عدالت عظمی میں ہے۔
مرتضی سلنگی نے یہ بھی کہا کہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیوں کا شیڈیول الیکشن کمیشن جاری کر چکا ہے جو ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نگران وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر بڑھتی ہے، ایسا کرنا مشکل ہے کہ مہنگا تیل خرید کر سستا بیچیں۔
مرتضی سولنگی کا کہنا تھا کہ 2015 کے بعد سے ملکی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور اسی وجہ سے نگران وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ معیشت کی بحالی حکومت کی پہلی ترجیح ہوگی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں جڑانوالا واقعے کی شدید مذمت کی گئی، وزیراعظم نے کہا کہ ریاست اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
ایک سوال پر نگران وزیر اطلاعات اور نشریات مرتضی سولنگی نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمات سے نگران حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔

















