Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائفرکیس؛ ایف آئی کے وکلا نے جواب کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا

چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفرکیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر سماعت میں ایف آئی اے کے وکلاء نے جواب جمع کرانے کیلئے عدالت سے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عامرفاروق نے سماعت کی جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے وکیل شیر افضل مروت عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

ایف آئی اے کے وکلاء نے جواب جمع کرانے کیلئے عدالت سے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا، دوران سماعت وکیل شیرافضل نے کہا کہ ہم نے ٹرائل کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے، پراسیکیوٹر نے ٹرائل کورٹ سے کہا کہ ہائیکورٹ میں درخواست زیرسماعت ہوتے ہوئے آپ کیس نہیں سن سکتے۔

وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ آپ ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لیں پھر دلائل سنیں گے، میں نے عدالت سے کہا کہ ہائیکورٹ میں زیرسماعت درخواست کا درخواست ضمانت سے کوئی تعلق نہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ جیل منتقل کرنے کے نوٹیفکیشن پر 30 اگست کی تاریخ لکھی ہے، کیا عدالت کو ہربارکیلئے جیل منتقل کیا گیا یا نوٹیفکیشن صرف 30 اگست کیلئے ہے؟

پراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کیلئے عدالت منتقل کی گئی۔

چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ یہ میرا سوال نہیں ہے میں کچھ اوربات پوچھ رہا ہوں، جس پر پراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ یہ متعلقہ عدالت کا اختیار ہے اور قانون کے مطابق اس عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔

عدالت نے استفسارکیا کہ سائفر کیس کی آئندہ تاریخ کیا ہے؟

وکیل شیرافضل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا 13 ستمبر کو کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا؟

پراسیکیوٹرذوالفقارعباس نقوی نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ہم ہدایات لےکرعدالت کو آگاہ کردینگے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم کیس اُس سماعت سے پہلے رکھ لیتے ہیں، عدالت کو آگاہ کیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر عدالت ایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی گئی، وزارت داخلہ متعلقہ وزارت بنتی ہے، وزارت قانون نے یہ نوٹیفکیشن کیسے کیا؟

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version