Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ریاست سکھ کمیونٹی کا تحفظ یقینی بنائے، سپریم کورٹ

عدالتِ عظمٰی نے ریمارکس دیے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے اقلیتوں سے متعلق آئین میں دی گئی ضمانتوں کا پاس رکھے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اقیلتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سردار بشنا سنگھ بابا گرونانک ویلفئیر سوسائٹی کے چئیرمین سپریم کورٹ پیش ہوئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کی درخواست میں ایک ایشو ٹارگٹ کلنگ کا اٹھایا گیا ہے، دوسرا ایشو آپ نے اٹھایا کہ گوردواروں کی تزئین و آرائش اور مرمت نہیں ہورہی۔

سرداربشنا سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے لوگ 1947 میں اپنا وطن چھوڑکر ہندوستان ئے، ہم یہیں رہے ہمارے مذہب کا آغاز بھی یہاں سے ہوا تھا۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے، ہم سکھ ہیں اس لیے ہمارے خلاف کچھ غلط کیا جارہا ہے، قبصہ گروپ مندر، مسجد، گوردوار کچھ نہیں دیکھتا۔

سرداربشنا سنگھ نے لاہور میں گوردواروں کی ٹوٹ پھوٹ کی تفصلات سپریم کورٹ میں پیش کردی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے سکھ برادری کی ٹارگٹ کلنگ افسوسناک قراردیتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگز کے باعث سکھ برادری کو مختلف مقامات پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے، سکھ برادری کے لوگ پاکستان چھوڑ کر جانے کو مجبورہوگئے، ریاست کو سکھ برادری کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ نے آئی جی خیبر پختونخوا سے حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تمام آئی جیز کو رپورٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل اور تمام ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر دیے۔

سردار بشنا سنگھ نے عدالت سے کہا کہ ہمارے نوجوانون میں خوف ہے کہ ان کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، ٹارگٹ کلنگ کا شکار مسلمان بھی ہیں مگر ہماری آبادی کم ہے، مجبور ہو کر سپریم کورٹ آئے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت ہمارے 3 کھلے تھے آج حکومت کی مہربانی سے 18 ہیں۔

 سردار بشنا سنگھ نے کہا کہ گزارش یہ ہے کہ محکمہ اوقاف گردواروں کی چاردیواری بنائے اورقبضوں سے بچائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم تمام متعلقہ اداروں سے رپورٹ مانگ رہے ہیں، آپ ہمیں مثاثرہ گردواروں کی فہرست دیں۔

سکھ رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں کرپان سمیت داخلے کی بھی استدعا کی، کہا کہ کرپان مذمبی طور پر ہمارے لباس کا حصہ ہے،  سپریم کورٹ میں کرپان اتارکراندرآنے دیا جاتا ہے جس پرعدالت نے کہا کہ  ریاست کی ذمہ داری ہے اقلیتوں سے متعلق آئین میں دی گئی ضمانتوں کا پاس رکھے۔

سپریم کورٹ نے سیکریٹری مذہبی اموراورچیئرمین اوقاف کے علاوہ اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیے۔

عدالت نے کہا کہ تمام ایڈوکیٹ جنرلز متعلقہ صوبوں سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ ریاست سکھ کمیونٹی کا تحفظ یقینی بنائے۔

سپریم کورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب سے سانحہ جڑانوالہ اورمحکمہ داخلہ پنجاب سے واقعہ کے بعد اقدامات پر رپورٹ طلب کی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version