افغان طالبان اور دہشتگرد تنظیموں کا گٹھ جوڑ ہوگیا ہے، افغان طالبان کی سر پرستی میں القاعدہ کے مختلف رہنماؤں کی افغان حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق القاعدہ افغان طالبان حکومت کے ساتھ ”قریبی اورعلامتی“ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، افغانستان میں القاعدہ کے رہنما طالبان حکومت کی سر پرستی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
افغان طالبان اور دہشتگرد تنظیموں کا گٹھ جوڑ
القاعدہ کے رہنماؤں کی افغان حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں
براہ راست دیکھیں:https://t.co/pc9YxibliX#BOLNews #Afghanistan pic.twitter.com/wjHVcXmKmy— BOL Network (@BOLNETWORK) September 15, 2023
القاعدہ کے اراکین نے طالبان حکومت میں سیکیورٹی اور انتظامی امور میں تقرریاں اور مشاورتی منصب حاصل کر رکھے ہیں۔ القاعدہ کو ماہانہ فلاحی ادائیگیاں کی گئیں اور اس کے کچھ حصے جنگجوؤں کو بھی فراہم کیے گئے۔
اس حوالے سے امریکی سفیر لینڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ طالبان کو اب یہ بتانا ہوگا افغانستان کی سرزمین کسی بھی دہشتگرد تنظیم کیلئے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔
روسی نائب سفیر ماریا زبولوتسکایا کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے جو ہتھیار افغانستان لائے گئے اب وہ دہشتگردوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔
سابق کمانڈر امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کو تاریخی غلطی کے طور پر دیکھا جائیگا جس وجہ سے عسکریت پسندوں کو ایک بار پھر اس ملک میں قدم جمانے کا موقع میسر آگیا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
