Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جاپان کی معروف کمپنی کا اسٹاک مارکیٹ سے 74 سالہ راج ختم

جاپان کی قدیم ترین اور سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک توشیبا کا 74 سالہ سٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان کی قدیم اور بڑی کمپنی توشیبا نے اعلان کیا ہے کہ نجی ایکویٹی فرم جاپان انڈسٹریل پارٹنرز (جے آئی پی) کی سربراہی میں ایک کنسورشیم نے اس کے 78.65 فیصد حصص خریدے ہیں۔

کمپنی کے دو تہائی سے زائد حصص کے مالک ہونے کی وجہ سے گروپ کو 14 ارب ڈالر کا معاہدہ مکمل کرنے کا موقع ملا ہے۔

توشیبا کمپنی 1875 سے قائم ہے جو اپنے ابتدائی ایام میں ٹیلی گرافک آلات بنایا کرتی تھی۔

معاہدے کے تحت اس کے حصص کو اس سال کے آخر تک اسٹاک مارکیٹ سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

توشیبا کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تارو شیماڈا نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی اب ایک نئے شیئر ہولڈر کے ساتھ ایک نئے مستقبل کی طرف ایک بڑا قدم اٹھائے گی۔

دوسری جنگ عظم کی تباہ کاریوں کے بعد توشیبا نے مئی 1949 میں اپنے حصص کی تجارت کا آغاز کیا تھا.

توشیبا کی مصنوعات گھریلو الیکٹرانکس سے لے کر نیوکلیئر پاور اسٹیشنوں تک پھیلی ہوئی ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دہائیوں تک ملک کی معاشی بحالی اور اس کی ٹیکنالوجی کی صنعت کی علامت تھی۔

1985 میں توشیبا نے دنیا کا پہلا بڑے پیمانے پر لیپ ٹاپ کمپیوٹر لانچ کیا۔

تاہم ٹوکیو میں قائم کمپنی کو حالیہ برسوں میں کئی بڑے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بزنس ایڈوائزری فرم یورو ٹیکنالوجی جاپان کے چیف ایگزیکٹیو گرہارڈ فاسول نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ توشیبا کی تباہی اعلیٰ سطح پر بد انتظٓامی کا نتیجہ ہے۔

2015 میں توشیبا کمپنی نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چھ سالوں میں اپنے منافع میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ اضافہ کیا اور 37 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کیا، جو اس وقت ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا جرمانہ تھا۔

دو سال بعد اس نے اپنے امریکی جوہری توانائی کے کاروبار ویسٹنگ ہاؤس کو بڑے نقصانات کا انکشاف کیا، جس کے نتیجے میں 700 ارب ین کا نقصان ہوا۔

دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے توشیبا نے 2018 میں اپنا میموری چپ کا کاروبار فروخت کر دیا تھا.

اس کے بعد سے توشیبا کو 2021 میں برطانیہ کے نجی ایکویٹی گروپ سی وی سی کیپٹل پارٹنرز کی جانب سے ٹیک اوور کی متعدد پیشکشیں موصول ہوئی ہیں، جسے اس نے مسترد کر دیا تھا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version