Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بارباریہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے کہ نوازشریف آرہے ہیں یا نہیں، شہبازشریف

سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بارباریہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے کہ نوازشریف آرہے ہیں یا نہیں، نوازشریف 21 اکتوبر کو پاکستان آرہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف نے لاہورمیں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف قانون کے سامنے پیش ہونگے، تباہ معیشت کو بحال کرنے کیلئے نوازشریف دوبارہ کام کرینگے، نوازشریف21اکتوبر کو خود معاشی پلان بتائیں گے۔

شہبازشریف نے کہا کہ ریاست بچ گئی تو سیاست بچ جائےگی، ترقی کےسفر کو وہاں سے شروع کرینگے جہاں سے ختم ہوا، 2017میں نوازشریف کو سازش کے تحت سزا دلوائی گئی، سابقہ دورمیں ملک کی خارجہ پالیسی کو تباہ کردیاگیا، چینی صدرکادورہ پاکستان دھرنے کی وجہ سے منسوخ ہوا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 2018میں پنجاب میں الیکشن جیت چکے تھے، نوازشریف کہتے وزارت چھوڑدوتو2منٹ میں استعفیٰ دے دیتا، 9 مئی کے واقعات افواج پاکستان کے خلاف بغاوت تھی، 16ماہ کی حکومت میں دھرنے اور تاریخی سیلاب کا سامنا کیا، عدم اعتماد قریب آیا تو آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑاگیا۔

انھوں نے کہا کہ انتہائی مشکل وقت میں قوم کی خدمت کی، ریاست بچانےکےلیے اپنی سیاست کو داؤپر لگایا، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے پرمخلوط حکومت کامشکورہوں، 200 یونٹ والے صارفین کےلیے آئی ایم ایف سے ریلیف لیا، پاکستان دیوالیہ ہوجاتا تو انتہائی بھیانک صورتحال ہوتی۔

صدرمسلم لیگ ن نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے باعث ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ملک دیوالیہ ہوجاتا تو پٹرول پمپس پررش لگ جاتا، 70ارب روپے مفت آٹااسکیم پر خرچ کیے، زندگی بچانے والی ادویات ناپیدہوئیں، ہم نے بجٹ میں یوتھ پیکیج دیا، ہم نے مسائل حل کرنےکےلیے سر توڑکوششیں کیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ ایک طرف معاشی بدحالی ملی تودوسری طرف دھرنےتھے، تاریخ کا سب سے بڑاسیلاب آیا، تمام وسائل وقف کیے، معاشی بدحالی ہمیں ورثے میں ملی تھی، مہنگائی پچھلی حکومت سے منتقل ہوئی ہے، پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف سے شرائط طےکرنےکے بعد ماننےسےانکارکردیا۔

انھوں نے مذید کہا کہ نوازشریف ڈاکٹرز کی کلیئرنس کے بعد تشریف لائیں گے، ڈیل ہوتی تونوازشریف کوڈھیل ملتی، مشرف دورمیں جیل نہیں کاٹتے، نوازشریف کی واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں، کہاگیاپانامامیں جس کا نام آیا اس کا احتساب کریں گے۔ ضرب عضب اورردالفساد میں جو قربانیاں دیں انہیں بھی یادرکھناچاہیے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version