جنوبی افریقہ کے سابق رگبی اسٹار ہینس اسٹرائیڈوم 58 سال کی عمر میں ایک کار حادثے میں انتقال کر گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ٹیم کے سابق ساتھی اور قریبی دوست کوبس ویزے نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ حادثے کی تفصیلات ابھی مبہم ہیں، لیکن اسٹریڈوم جس گاڑی میں سفر کر رہے تھے وہ منی بس ٹیکسی سے ٹکرا گئی۔
وہ اسپرنگ بوک ٹیم کا حصہ تھے جس نے 1994 میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے بعد 1995 رگبی ورلڈ کپ جیتا تھا۔
اسٹریڈوم نے 1993 اور 1997 کے درمیان اپنے کیریئر میں 21 اسپرنگ بوک کیپ حاصل کیں۔
یہ حادثہ اتوار کے روز صوبہ مپوملنگا میں کوئلے کی کان کنی کے قصبے ای ملاہلینی کے قریب پیش آیا۔
جنوبی افریقی رگبی یونین کے صدر مارک الیگزینڈر نے اسپرنگ بوکس کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسٹریڈوم کو ہمارے مقامی کھیل کے ہیروز میں سے ایک قرار دیا۔
ان کے سابق کلب لائنز نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک لیجنڈ قرار دیا جس نے ویزے کے ساتھ مل کر ایک زبردست لاک کمبی نیشن تشکیل دیا تھا۔
لائنز رگبی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر روڈولف اسٹریولی کا کہنا ہے کہ 1995 کے گروپ کے ارکان کی حیثیت سے ہمارے درمیان مضبوط تعلق ہے اور اپنے ایک اور بھائی کو کھونا ایک بڑا دھچکا ہے۔
اسٹریڈوم نے 1993 میں اسپرنگ بوکس کے لیے ڈیبیو کیا اور جوہانسبرگ میں 1995 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں روایتی حریف نیوزی لینڈ کو 15-12 سے شکست دینے میں مدد کی جو نسلی امتیاز کے خاتمے کے بعد جنوبی افریقہ میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ تھا۔
انہوں نے برطانوی اور آئرش لائنز سیریز میں کھیلنے کے بعد 1997 میں اپنے اسپرنگ بوک کیریئر کا اختتام کیا۔
اسٹریڈوم نے لائنز کی ٹیم کی کپتانی بھی کی جس نے 1999 میں مقامی کری کپ ٹرافی اٹھائی تھی، انہوں نے 1993 اور 2000 کے درمیان ٹیم کے لئے 115 میچ کھیلے۔
رگبی سے باہر اسٹریڈوم نے دارالحکومت پریٹوریا میں فارماسسٹ کے طور پر کام کیا، اور رگبی سے ریٹائرمنٹ کے بعد فارمیسی چین فارما والو شروع کیا..
2014 میں کار جیکنگ میں چھ افراد نے ان پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ان کی کھوپڑی پھٹ گئی تھی اور انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا تھا۔
وہ 1995 کی اسپرنگ بوک ٹیم کے پانچویں کھلاڑی ہیں جو انتقال کر گئے ہیں۔
دیگر کھلاڑیوں میں 2010 میں روبن کروگر، 2017 میں جوسٹ وان ڈیر ویسٹ ہوئیزن اور 2019 میں چیسٹر ولیمز اور جیمز سمال شامل ہیں۔ کوچ کیچ کرسٹی بھی 1998 میں انتقال کر گئے تھے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
