سپریم کورٹ نے سرکاری افسران کےعہدے کیساتھ “صاحب” لفظ کے استعمال پر پابندی لگانےسے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
دو صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا کہ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ نے ڈی ایس پی کے ساتھ “صاحب” کا لفظ استعمال کیا، سرکاری افسران کے عہدے کے ساتھ صاحب کا لفظ لکھنا اب بند ہونا چاہیے۔
تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک افسرصاحب کے لفظ سے خود کو احتساب سے بالا تصورکرتا ہے، ناقابل احتساب ہونے کی غلط فہمی ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ مفاد عامہ کے خلاف ہے، عوام کے پیسے سے تنخواہ لینے والوں کے نام کیساتھ صاحب لگانا غیر مناسب ہے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ یہ بھی روایت بن گئی ہے کہ باقاعدہ نوٹس نا ہونے کے باوجود پولیس اہلکار ذاتی حیثیت میں عدالت آتے ہیں، جو دستاویزات وٹس ایپ یا فیکس ہوسکتے ہیں ان کے لیے پولیس اہلکاروں کو خود عدالت آنے کی ضرورت نہیں۔ فیصلے کی کاپی آئی جی کے پی، ایڈووکیٹ جنرل اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پی کو بھیجی جائے۔
چیف جسٹس پاکستان نے تحریری فیصلے میں کہا کہ پولیس نے بچہ مرنے کے ذمہ داران کے تعین کیلئے کوئی تفتیش نہیں کی، ناقص تفتیش کی مثال دینے کیلئے یہ بہترین کیس ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔ ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
