کراچی کے تاجر کے گھر ڈکیتی میں ملوث ڈی ایس پی عمیر طارق باجاری کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
گزشتہ روز سٹی کورٹ کراچی میں اورنگی ٹاؤن کے رہائشی تاجر شاکر خان کے گھر میں 2 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ڈکیٹی کے الزام میں گرفتار زیر تربیت ڈی ایس پی عمیر طارق باجاری کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔
کروڑوں کی ڈکیٹی کے جرم میں گرفتاری کے باجود پولیس نے اپنے پیٹی بھائی کو بھرپور پروٹوکل فراہم کیا، عمر طارق بجاری کی عدالت میں پیشی کے وقت دو ایس ایچ اوز، دو ڈی ایس پی انہیں سیکیورٹی دے رہے تھے۔
دوسری جانب ڈھائی کروڑ روپے کی ڈکیتی میں ملوث ڈی ایس پی عمیرطارق باجاری کی معطلی کے بعد محکمانہ کارروائی کا آغازکردیا گیا اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے زیر حراست ڈی ایس پی عمیر طارق کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار خرم اور فیضان ڈی ایس پی کے خاص دست راست تھے اور پولیس نے کارروائی کے دوران ان کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جب کہ ڈکیتی میں استعمال پولیس موبائلز اور گاڑیوں کو تحویل میں لیا جائے گا اور وارادت میں موجود تمام ہتھیار بھی قبضے میں لے کر فارنزک کروایا جائے گا۔
کروڑوں کی ڈکیتی میں ملوث ڈی ایس پی عمیر طارق کون ہیں؟
پولیس ذرائع کے مطابق کروڑوں کی ڈکیتی میں ملوث زیرتربیت ڈی ایس پی عمیر طارق سابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے پرائیویٹ سیکرٹری سلیم بجاری کے بھتیجے ہیں جنہیں اس عہدے پر ڈائریکٹر بھرتی کیا گیا۔ پولیس میں شامل ہونے سے پہلے وہ اندرون سندھ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کراچی میں بھی انہوں نے 15 رکنی گروہ بنارکھا ہے جس میں محکمہ پولیس کے برطرف اہلکار، منشیات فروشی اوردیگر جرائم میں ان کے ساتھ تھے، اس گروہ کی اکتوبرکی دو وارداتوں کی سی سی ٹی وی اورمتاثرین سامنے آگئے ہیں۔
واضح رہے کہ عمیر طارق باجاری کی پرائیویٹ پارٹی بھتہ خوری، ڈکیتی، شارٹ ٹرم اغوا برائے تاوان اور غیرقانونی چھاپوں میں ملوث رہ چکی ہے۔
