سپریم کورٹ نے سابق معزول جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت وکیل حامد خان سے پوچھا کہ شوکت عزیزصدیقی کے الزامات کیا درست ہیں؟ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی کی گئی تقریر پر برطرف کیا گیا، سوچ کر جواب دیں کہ کیا آپ کے الزمات درست ہیں؟
معزل جج کے وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ میرے لگائے گئے الزامات درست ہیں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 184 تین کے تحت آئے ہیں، یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دائرہ اختیار کے تحت کیا ہو سکتا ہے، سہولت کاروں کو فریق بنا لیا ہے تو فائدہ اٹھانے والے کو کیوں نہیں بنایا؟
شوکت عزیزصدیقی نے جواب دیا کہ فائدہ کس نے لیا ایسی کوئی بات تقریر میں نہیں تھی۔
شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف کیس کی سماعت
سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کاسی کو بھی نوٹس جاری کر دیا
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/73lSfw846w— BOL Network (@BOLNETWORK) December 15, 2023
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کی درخواست میں عدالت کا اختیار شروع ہوچکا ہے، ایک امیدوار کو سائیڈ پر اسی لیے کیا جاتا ہے کہ من پسند امیدوارجیتے۔
وکیل حامد خان نے دلائل میں کہا کہ ستر سال سے ملک میں یہی ہو رہا ہے، جس پرجستس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ستر سے جو ہورہا ہے اس کا ازالہ نہ کریں؟
اٹارنی جنرل کی طلبی
دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر مسئلہ صرف پنشن کا ہے تو سرکار سے پوچھ لیتے ہیں آپ کو دے دیں گے، اگر پاکستان کی تاریخ درست کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں ہم آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ مقصد صرف پنشن ہے تو ٹھیک ہے وہ مل جائے گی ہم کسی کو بلانے کی زحمت کیوں دیں؟
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا چیف جسٹس ہائی کورٹ نے وہ بنچ بنایا تھا جو فیض حمید چاہتے تھے؟ وکیل نے جواب دیا کہ جو فیض حمید چاہتے تھے وہ ہوا۔
چیف جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ اب آپ خود معاملہ الیکشن 2018 تک لے آئے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نوازشریف کی اپیل پرکیا فیصلہ ہوا؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ اپیلوں پر ابھی فیصلہ ہوا اور نوازشریف بری ہوگئے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے پوچھا کہ کیا شوکت عزیز صدیقی نے یہ ساری گفتگو اپنے چیف جسٹس کو بتائیں؟ حامد خان نے جواب دیا کہ تین مرتبہ چیف جسٹس انورکانسی سے بات کی تھی۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ آج صرف نوٹس کرنے ہیں اس لیے صرف پٹیشن سے فریقین کا تعلق بتائیں۔
معزول جج کے وکیل نے جواب دیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے رجوع کیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کوئی جواب نہیں دیا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت رجوع کیا اب انصاف لیکر جائیں گے چاہے آپکو اچھا نہ لگے۔ درخواستیں واپس لینے پر بھاری جرمانے کررہے ہیں، فیض حمید، عرفان رامے، محمد عارف اور سابق چیف جسٹس انور کانسی پر الزامات لگائے گئے ہیں، باقی جن لوگوں کو فریق بنایا ہے ان پر براہ راست کوئی الزام نہیں ہے۔
بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ فیصل مروت کو بھی نوٹس کرنا بنتا ہے۔
سپریم کورٹ نے فیض حمید، عرفان رامے، فیصل مروت کو شوکت عزیزی صدیقی کیس میں فریق بنانے اورسابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کانسی کوبھی فریق بنانے کی استدعا منظورکرلی۔
عدالت نے کہا کہ فریقین پر الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اس لیے ان کا مؤقف سننا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے نوٹس بھیجنے کیلئے فریق بنائے گئے سابق افسران کے ایڈریس فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے۔
عدالتِ عظمٰی نے فریقین کو ان پرعائد الزامات پر مبنی مواد بھی فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں ایڈریس ملنے کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے سابق رجسٹرارسپریم کورٹ ارباب عارف کو نوٹس جاری کردیے اورفیصل مروت کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
چیف جسٹس پاکستان فائزعیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نےسابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کےخلاف اپیل پرسماعت کی۔
پانچ رکنی لارجر بنچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل تھے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کو چیلنج کر رکھا ہے۔




















