اگرآبادی بڑھی ہے تو نشستیں کم کیسی کی جاسکتی ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے اس نکتےپر2 بجے دلائل طلب کرلیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ملک کے مختلف اضلاع کی حقلہ بندیاں چیلنج کرنے کے کیسزمیں خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے خلاف سماعت جاری ہے۔
سپریم کورٹ کے حلقہ بندیویں کے خلاف کیسز غیرمؤثرہونے کا تحریری حکمنامہ جاری نہ ہوسکا
اگر آبادی بڑھی ہیں تو نشستیں کم کیسی کیا جاسکتا ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے اس نقطے پر 2 بجے دلائل طلب کرلیے۔
جسٹس ارباب محمد طاہرنے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد ہمارے ہاتھ باندھے گئے ہیں۔ ہمارے پاس وقت تو نہیں مگر میں ایسا فیصلہ دوں گا جو مستقبل میں کام آئے گا۔
عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسارکیا کہ قومی اسمبلی کے حلقے کے لیے ووٹرکی تعداد کتنی رکھی ہے؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہرنے کیس کی سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے وکلاء سید قمر سبزواری، قاسم نواز عباسی و دیگر عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ضیغم انیس اور ثمن مامون بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سے استفسارکیا کہ حلقہ بندیوں کی شیڈول کا اعلان آپ سیکشن 57 کے تحت کرتے ہیں؟
قمر سبزواری ایڈوکیٹ نے بتایا کہ یہ پہلے مان لیتے ہیں کہ غلطی ہوئی ہیں اور پھردرخواستوں کو خارج کرتے ہیں۔ حلقہ این اے 8 باجوڑ کی کل ابادی 13 لاکھ ہیں اور حلقہ بھی ایک دیا گیا، ہمارے پڑوس کے قومی اسمبلی کا حلقہ ساڑھے 5 لاکھ کی آبادی پررکھا گیا۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ ماضی میں ہمارے ضلع میں دو حلقے تھے اور اب ایک حلقہ بنایا گیا۔
وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ نئی حلقہ بندی کا تعین ہم نے ضلع کی حد تک کر رکھی ہے۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے این اے 35 کوہاٹ کی حلقہ بندی ریمانڈ بیک کی۔
عدالت نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت کیا آپ کے پاس اختیار ہے کہ آپ آبادی بڑھنے پر حلقہ ضم کریں؟ ہمیں یہ بتائیں کہ الیکشن ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ آبادی زیادہ ہوتو دوسرے حلقے میں منتقل کیا جائے؟
جسٹس ارباب محمد طاہرنے کہا کہ ویسے تو ہر دس سال بعد مردم شماری ہونی چاہیے مگر یہاں ایسا نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ آبادی بڑھنے پر نشتیں کم کریں۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ الیکشن کمیشن خود ہی الیکشن ایکٹ کے سیکشن 20 کی خلاف ورزی کررہا جبکہ وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ قومی اسمبلی کی حلقہ کے لیے 9 لاکھ کی تعداد ہوتی ہیں جس پرعدالت نے استفسارکیا کہ اگرنو لاکھ کی آبادی ہیں تو یہاں تیرہ لاکھ میں کیسے ایک حلقے کو رکھا گیا؟ الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں یہی کچھ کیا ہے۔
پنجاب کے چینیوٹ کے قومی اسمبلی کے حلقہ 93، 94 ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قومی اسمبلی کے حلقہ 106، 107 کی حلقہ بندیاں اورصوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے این اے 8 کی حلقہ بندی چیلنج کی گئی ہے۔
ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے صوبائی اسمبلی کے 121 اور 124 کی حلقہ بندی جبکہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ 41,42 کی حلقہ بندیاں بھی چیلنج کی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن سے دلائل طلب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت میں آج دوپہردو بجے تک وقفہ کردیا۔
