سابق مس عراق سارہ عیدان نے فوجی وردی میں اسرائیل کا دورہ کرکے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ کے ارد گرد بستیوں میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور بعد ازاں انہوں نے وہ تصاویر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیں۔
انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کی جانے والی پوسٹ میں سابق ملکہ حسن نے لکھا ’’ آج میں نے کفار عزہ کا دورہ کیا اور اس مقام پر حماس کی دراندازی کی وجہ سے دل دہلا دینے والا قتل عام اور دہشت گردی کے مناظر دیکھنے کو ملے‘‘
سارہ عیدان کا کہنا تھا کہ حماس کے جنگجوؤں نے اپنے گھروں میں موجود بے گناہ اسرائیلی خاندانوں کی جانیں لے لی جب کہ غزہ سے صرف ایک میل کے فاصلے پر ہم نے آئرن ڈوم کو حماس کی طرف سے داغے گئے راکٹوں کو فضا میں ناکارہ بناتے ہوئے دیکھا۔
عراقی ملکہ حسن نے کہا کہ میں نفسیاتی طور پر تیار رہنے کے لیے عراق سے اپنی پرانی وردی لائی تھی لیکن میں اب بھی صدمے میں ہوں اور اس تجربہ کو بیان نہیں کرسکتی۔
بعد ازاں ایک انٹریو میں فوجی وردی میں غزہ کا دورہ کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا مقصد سوشل میڈیا صارفین کو حقیقت سے آگاہ کرنا تھا۔
یاد رہے کہ سارہ عیدان عراقی نژاد امریکی ماڈل ہیں جب کہ وہ موسیقی میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انسانی حقوق کی کارکن بھی ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے ان کی تصاویر پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ کچھ صارفین نے عراقی دوشیزہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سارہ عیدان کو اسرائیل نواز قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیل اور حماس جنگ میں اب تک 4 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ اسرائیلی بمباری سے 4 ہزار سے زائد طلبہ بھی شہید ہوئے ہیں اور 381 اسکولوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
