پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن اورانتخابی نشان کیس سےمتعلق الیکشن کمیشن کی درخواست پرپشاورہائی کورٹ نےمحفوظ فیصلہ سناتےہوئے پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا۔
پشاورہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی نظرِ ثانی کی درخواست پرعدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی درخواست منظورکرلی اور حکمِ امتناع واپس لے لیا۔
جسٹس اعجازخان نے حکمِ امتناع واپس لینے کے بعد الیکشن کمیشن کا 22 دسمبرکا فیصلہ بحال کردیا۔ اس سے قبل پشاورہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پرسماعت کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
پشاور ہائی کورٹ نےفیصلہ سنا دیا، پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #PTI #PeshawarHighCourt pic.twitter.com/fQI9gwRQVI— BOL Network (@BOLNETWORK) January 3, 2024
فیصلے سے قبل سماعت کا احوال
پشاورہائی کورٹ میں پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن اورانتخابی نشان کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کی ہائی کورٹ کے 26 دسمبرآرڈر پر نظرثانی کی درخواست پرسماعت ہوئی۔
پشاو ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے سماعت کی جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل سکندربشیر مہمد اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ فیصل اتمان خیل عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کےآغاز میں جسٹس اعجازنے الیکشن کمیشن سے استفسارکیا کہ آپ کے دلائل ہم نے سنے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ میں سماعت سننے کے لیے آیا ہوں۔
پی ٹی کے وکیل نے جواب دیا کہ سینئروکیل قاضی انورآرہے ہیں پھر دلائل پیش کریں گے، استدعا ہے کہ ہمیں تھوڑا وقت دیا جائے جس پرجسٹس اعجازخان نے کہا کہ ٹھیک ہے جب آپ کا مین کونسل آجائے پھر سن لیں گے۔
پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس
پشاور ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #PeshawarHighCourt pic.twitter.com/PfifO1AKtQ— BOL Network (@BOLNETWORK) January 3, 2024
پی ٹی آئی کے وکیل قاضی انورکے دلائل
پی ٹی آئی وکیل قاضی انوردلائل دیے کہ الیکشن کمیشن اپنے ڈرافٹ میں خود کو جوڈیشل اتھارٹی کہتا ہے، پہلے اس کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن 26 دسمبرکے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ آسکتا ہے کہ نہیں، 26 دسمبر کا جو آرڈر دیا گیا الیکشن کمیشن نےاس کا اطلاق نہیں کیا۔
وکیل قاضی انورنے کہا کہ انہوں نے ویب سائٹ پر کچھ بھی نہیں ڈالا، 9 جنوری کو اس پرسماعت ہونی ہے اس میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں، 26 دسمبر کا جو آرڈر آیا ہے اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا۔
جسٹس اعجازخان نے کہا کہ کیا اس کے خلاف توہین عدالت درخواست دائر کی ہے۔ آپ کی طرف سے کوئی توہین عدالت درخواست نہیں آئی۔
ایڈووکیٹ قاضی انور نے دلائل دیے کہ ہمارے امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے الیکشن کمیشن بتائے انھیں نے کیا کیا۔ 9 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر ہے، 9 جنوری میں کتنے دن باقی ہے۔ الیکشن کمیشن نے استدعا کی ہے کہ 26 دسمبر کا آرڈر واپس لیا جائے۔ الیکشن کمیشن کو اس آرڈر سے مشکلات ہے۔
پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ کل مشعال ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئی، وہ اس کیس میں وکیل ہی نہیں، اس کیس میں بیرسٹرعلی ظفر، بیرسٹر گوہر اور قاضی انوروکیل ہیں، الیکشن کمیشن یہ بات کر سکتا ہے کہ کیا ایک ہائی کورٹ فیڈریشن پر فیصلہ دے سکتا ہے۔
جسٹس اعجازانورنے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسارکیا کہ عدالت کا کام ہے قانون کی تشریح کرنا، ہم نے آپ سے سیکھا ہے، باہرکیا ہو رہا ہے وہ ہمارا کام نہیں۔
ایڈووکیٹ قاضی انورنے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کے فیصلے پرعمل درآمد نہیں کیا، ویب سائٹ پر پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ابھی تک جاری نہیں ہوا جس پرجسٹس اعجازانورنے کہا کہ آپ کی طرف سے کوئی توہین عدالت کی درخواست نہیں۔ آئین کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن صاف شفاف اور دیانتداری کے ساتھ الیکشن کا انعقاد کرے گا۔ جاوید ہاشمی کے کیس میں سپریم کورٹ نےکہا ہے کہ جب الیکشن کا نوٹیفیکشن ہوتا ہے تو اس دن سے الیکشن شروع ہوجاتا ہے۔
جسٹس اعجازخان نے کہا کہ آپ کے دو پوائنٹ ہیں کہ الیکشن کمیشن حکم امنتاع واپس لینے کے لیےنہیں آسکتا۔ دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ اس آرڈرسے الیکشن انعقاد میں کیا مشکلات ہے۔
وکیل نے جواب دیا کہ وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل میں نے نہیں سنے کل میں نہیں تھا جس پرعدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ایک اعتراض یہ ہے انٹرریلیف تو پورا کیس ہے۔
وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 13 جنوری کو نشان الاٹ کرنا ہے ابھی اس میں دن باقی ہے۔ 9 جنوری کو کیس سماعت کے لیے مقررہے اس میں ہوجائے گا۔کل لاھورہائیکورٹ میں بھی ایک کیس تھا اور الیکشن کمیشن نے وہاں پر کہا کہ 9 جنوری کے بعد تاریخ دے دیں، پشاورہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے۔
جسٹس اعجازخان نے کہا کہ یہ وہاں پرمطمئن ہیں اوریہاں نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کا ایک اعتراض یہ ہے کہ اس کو پہلے لاھور ہائیکورٹ میں دائر کیا تھا پھریہاں آگئے۔ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ اس کا مجھے پتہ نہیں ہے، معلومات کرونگا۔
جسٹس اعجازخان نے کہا کہ اگروہ عدالت میں موجود بھی ہوتے تو میں آپ کو سن لیتا، آپ سب سے سینئر ہیں۔
وکیل قاضی انور نے دلائل میں کہا کہ اس کیس میں ایڈوکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل والے بھی پیش ہوئے جس پرعدالت نے کہا کہ انھوں نے کہا ہے کہ ہم اس میں فریق نہیں ہے۔
علی زمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس دن ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایک گھنٹے سے زائد دلائل دیے۔
جسٹس اعجازخان نے کہا کہ آپ کے جو اعتراضات ہیں وہ مین کیس آجائیں گے۔
نویداخترایڈووکیٹ نے کہا کہ درخواست گزارجہانگیر کو نقصان ہورہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے لیے لاھور میں کاغذات جمع کیے گئے اوران کے لیے دوسرے حلقے کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ لایا گیا ہے۔ میانوالی میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے، اس پر ورکرز کو پریشانی ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ کمیشن کے پاس اختیارات ہیں، میرا ہرسوال سپریم کورٹ کے فیصلے پرمبنی تھا، انہوں نے ہمارے آرڈر پر حکم امتناعی لی ہے ہمیں حق ہے اس کے خلاف رٹ دائر کرنے کا، الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کو لسٹ سے نہیں نکال رہا، الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ہمار قوانین کی پاسداری اپ نے نہیں کی۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل میں کہا کہ ان کا کیس یہاں قابل سماعت ہی نہیں یہ سپریم کورٹ جاتے، کل الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی لاہورہائیکورٹ میں پیش نہیں ہوا۔ آج تک 20 سیاسی پارٹیوں کے انٹرا پارٹی کیسز الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے۔ پی ٹی آئی کے علاوہ 19 اور سیاسی پارٹیوں کے کیسز الیکشن کمیشن کے سامنے ہے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ 13 جنوری سے پہلے ہم نے فیصلہ کرنا ہے۔ ہائیکورٹ آڈر کی وجہ سے معاملات روک گئے ہیں۔ دیگر پارٹیوں کو بھی اس آرڈر سے فائدہ ہوگا۔
ایڈووکیٹ قاضی انور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کلعدم قراردینے کا اختیار نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے 2013 اور 2018 انتخابات بیٹ کے نشان پر لڑے ہیں۔
