Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آپ نےعدالتی فیصلہ تسلیم کرنا ہے کریں نہیں کرنا نہ کریں، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے وکیل پی ٹی آئی سے کہا کہ قانون ہم نہیں بناتے، قانون پر عمل کرواتے ہیں، آپ کو قانون نہیں پسند تو بدل دیں۔ آپ کو فیصلہ پسند نہیں ہے توکچھ نہیں کرسکتے۔

لیول پلیئنگ فیلڈ کیس میں تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لیتے ہوئے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جمہوریت اورعوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں، آپ کی بہت مہربانی بہت شکریہ۔ مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ اگر کوئی ہدایت دینی ہے تو الیکشن کمیشن کو دیں، ہم لیول پلیئنگ فیلڈ اور شفاف انتخابات کیلئے آئے تھے۔ آپ کے فیصلے سے ہماری 230 نشستیں چھین لی گئیں۔ کسی کو ڈونگا، کسی کو گلاس اور کسی کو بینگن کا نشان دیدیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ نے عدالتی فیصلہ تسلیم کرنا ہے کریں نہیں کرنا نہ کریں، لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ آپ نے تو پی ٹی آئی کی فیلڈ ہی چھین لی، تحریک انصاف کا شیرازہ ہی بکھیر دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن صرف انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے، ایک جماعت کو پارلیمان سے باہر کرکے بین کیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی کے تمام امیدوار آزاد انتخابات لڑیں گے اور کنفیوژن کا شکار ہونگے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا آپ کو لگتا ہے انتخابات شفاف نہیں ہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ انتخابات بالکل غیرمنصفانہ ہیں، ہم نے عدلیہ کیلئے خون دیا، قربانیاں دیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اب آپ ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں، دوسرے کیس کی بات اس کیس میں کرنا مناسب نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے جمہوریت تباہ ہو جائے گی، جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ بار بار کہا تھا کہ دکھا دیں انٹراپارٹی انتخابات کا ہونا دکھا دیں، آپ کو فیصلہ پسند نہیں تو کچھ نہیں کرسکتے، لیول پلیئنگ فیلڈ پر ہم نے حکم جاری کیا تھا، عدالت حکم دے سکتی ہے حکومت نہیں بن سکتی، بیرسٹر گوہر کے معاملے پر پولیس اہلکار معطل ہوگئے، بیرسٹر گوہر کا کوئی ایسا رہ گیا ہے تو عدالت آپ کر بتائیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارا کام انتخابات قانون کے مطابق کروانا ہے، الیکشن کا معاملہ ہم نے اٹھایا، پی ٹی آئی کی درخواست پر بارہ دن میں تاریخ مقرر کی، الیکشن کمیشن کہتا رہا پارٹی انتخابات کرائیں لیکن نہیں کرائے گئے، کسی اور سیاسی جماعت پر اعتراض ہے تو درخواست لے آئیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے وکیل پی ٹی آئی سے مکالہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے الیکشن کا معاملہ اٹھا، ہم نے تاریخ دلوائی، کیا آپ تاریخ دلوا سکے تھے؟ قانون ہم نہیں بناتے، قانون پر عمل کرواتے ہیں، آپ کو قانون نہیں پسند تو بدل دیں۔

وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان واپس دیا، تحریک انصاف کو کیوں نہیں؟ جس پر عدالت نے کہا کہ ہمیں کل پتہ چلا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے آئین کے مطابق ابھی وقت موجود تھا، اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کو نشان واپس لوٹایا، لطیف کھوسہ صاحب یہ درست طریقہ کار نہیں ہے، آپ سینئر وکیل ہیں، آپ پاکستان کے سارے ادارے تباہ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version