آپ نے اکثر یہ محاورہ سنا ہوگا کہ یہ لڑکی بلکل اپنی ماں جیسی ہے، اس وجہ یہ ہے کہ والد اور والدہ دونوں کے جینز بچوں کی جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی خاصیتوں کی تشکیل کرتے ہیں لیکن لڑکا ہو یا لڑکی ان دونوں میں 5 خواص ایسے ہیں جو بطور خاص ان میں ان کے والد سے منتقل ہوتے ہیں۔ یہاں پر ان ہی خواص کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
جیناتی طور پر کسی بھی بچے میں جو مکمل جینز ہوتے ہیں ان میں 50 فیصد جینز والدہ سے اور 50 فیصد والد سے منتقل ہوتے ہیں جو بچے میں مختلف شخصیت اور خواص کا تعین کرتے ہیں تاہم اور ان میں جو سب سے ایک اہم خواص قد ہے جو کہ بچے میں اس کے والد سے منتقل ہوتا ہے۔ یعنی کہ آپ کے والد کا قد اگردراز ہے تو تقریباً اس کے 700 جنیٹک ویریئنٹ ہوتے ہیں جو آپ کو ورثے میں مل سکتے ہیں اور اس طرح اس بات کا بہت امکان ہے کہ والد کا دراز قد اولاد میں لمبے قد کی وجہ بنتا ہے۔

دوسری اہم بات منہ کی صحت کے حوالے سے ہے اگر آپ کے دانت جوانی سے ہی خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں، کمزور ہیں یا ان کی ترتیب درست نہیں ہے، تیڑھے ہیں یا ان کو کیڑا لگتا ہے یا منہ کی اندرونی صحت بہت اچھی نہیں ہے تو اس کا جین بھی آپ کے والد کی طرف سے وراثت میں مل سکتا ہے۔

جینڈر یا جنس جی ہاں اگر آپ لڑکا ہیں یا لڑکی ہیں تو اس کے سو فیصد ذمہ دار آپ کے والد ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے والد کے پاس ایکس اور وائے کرموسومز ہوتے ہیں یعنی والد کی جانب سے ایکس کروسومز یا وائے کروموسومز آئے گا اور وہی بچے کی جنس کا تعین کرے گا۔

جبکہ خاتون یعنی ماں کے پاس صرف ایکس یا ایکس کروسومز کا جوڑا ہوتا ہے یہی وجہ ہے اگر والد کی طرف سے ایکس کروموسومز آتا ہے تو لڑکی کی پیدائش جبکہ وائے کروموسومز آنے کی صورت میں لڑکے کی پیدائش ہوتی ہے۔ اس بات کے برخلاف کہ خواتین بچے کی جنس کی ذمہ دار ہوتی ہے بلکل غلط ہے اس کا مکمل انحصار والد پر ہوتا ہے۔
اگر آپ کے گالوں کے اندر خوبصورت ڈمپل پڑتے ہیں تو اس کا بھی امکان ہے کہ یہ والد کی طرف سے ہو۔ طبی زبان میں ڈمپل کا پڑجانا ایک طبی نقص ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے گال کے پٹھے اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ وہ مسکرانے یا گال کھیچنے کی صورت سیدھے دکھائی دینے لگے اسی لیے ان میں اندر کی جانب گڑھا پڑتا ہے جو بہت خوشنما معلوم ہوتا ہے اور یہ ڈمپل بھی والد کی طرف سے جنیاتی طور پر ورثے میں ملتے ہیں۔

اگر آپ لڑکے ہیں تو آپ کے فنگر پرنٹس کا بہت بڑا حصہ آپ کے والد کے نشان انگشت سے ملتا جلتا ہوگا یہ بھی جیناتی طور پر والد سے بلخصوص لڑکوں کی جانب منتقل ہوتا ہے۔





















