چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسی اور پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آگئے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ نااہلی کے خلاف درخواست مقرر کرنے کی استدعا کی۔
چیف جسٹس پاکستان نے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لطیف کھوسہ صاحب، آپ باہر جا کر الزامات لگاتے ہیں، ایک طرف آپ عدلیہ پر اعتبار نہیں کرتے دوسری طرف ریلیف بھی مانگتے ہیں، جلد سماعت کی درخواست دائر کر دیں، قانون کے مطابق جو ریلیف ہوگا وہ دیں گے۔
چیف جسٹس پاکستان اور لطیف کھوسہ کا مکالمہ ملازمت سے متعلق ایک کیس کے دوران ہوا جس میں لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ نااہلی کیخلاف درخواست مقررکرنے کی استدعا کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ سے کہا تھا کہ آپ نے عدالتی فیصلہ تصلیم کرنا ہے کریں، نہیں کرنا نہ کریں۔ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟
گذشتہ روزسماعت کی مکمل تفصیلات پڑھنے کے لیے لنک کھولیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لیتے ہوئے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جمہوریت اورعوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں، آپ کی بہت مہربانی بہت شکریہ۔ مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے۔
