27 جنوری 1994 کوبھارتی فوجیوں نے ضلح کپواڑہ میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 50 سے زائد کشمیریوں کوشہید کردیا تھا۔
بھارتی فوجیوں نے کپواڑہ میں قتل عام 26 جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کے روزہڑتال کرنے پر لوگوں کو سزا دینے کے لیے کیا تھا۔
کپواڑہ قتل عام اورمقبوضہ علاقے میں خونریزی کے دیگر واقعات میں ملوث بھارتی فوجیوں کو آج تک سزا نہیں دی گئی۔ اس قتل عام میں مدراس رجمنٹ کے سکینڈ لیفٹیننٹ جی ڈی ایس بخشی کے زیرکمان فوجی ملوث تھے۔
ہیومن رائٹس رپورٹ کے مطابق حقائق کو مسخ کرنے کیلئے اس وقت کے ضلع ترقیاتی کمشنر کو فوج نے اپنے ہیڈ کوارٹر میں بُلا کر اس پر دباؤ ڈالا، بعد میں بھارتی فوج کے عدم تعاون کے باعث اس معاملے کو مکمل بند کردیا گیا۔
کشمیر میڈیا کے مطابق قتل عام کی تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری کا قیام عمل میں لایا گیا مگراس کی رپورٹ آج تک پیش نہیں کی گئی، مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کاواحد مقصد مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔
کپواڑہ قتل عام کے متاثرین گزشتہ 30 سال سے انصاف کے منتظر ہیں اوراس اندوہناک واقعے کے زخم آج بھی تازہ ہیں، کپواڑہ قتل اور ایسے دیگر سنگین واقعات بھارتی حکومت کے سیکولرازم نعروں پر طمانچہ ہیں۔
