عدالت نے ایئرپورٹ رن وے کی صفائی کےکنٹریکٹ منسوخی کے معاملے پر سی اےاےکوانکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
سندھ ہائیکورٹ میں ائیرپورٹ رن وے کی صفائی کا کنٹریکٹ منسوخ کرنےکےخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، سول ایوی ایشن اورکنٹریکڑ کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ آپکا ٹھیکہ کیوں منسوخ کیا گیا؟ وکیل نے جواب دیا کہ ہمیں صفائی کا کیمیکل ناقص کہہ کرٹھیکہ منسوخ کیا گیا۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ ظاہرہےآپ کو کس نے اجازت دی کہ ناقص مٹیریل استعمال کریں؟ اس معاملہ پرآپکا ٹھیکہ منسوخ ہونا چاہئیے۔
وکیل سول ایوی ایشن نے بتایا کہ رن وے پرجہازوں کی آمدورفت ہوتی ہےانکا مٹیریل اچھا نہیں تھا۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمیں 2015 سے نئے کنٹریکٹ کیلئے نااہل کیا گیا ہے، ابھی تک سول ایوی ایشن کی جانب سے نہ توکوئی تحریری جواب دیا گیا، نہ ہی ٹھیکہ منسوخی کے حوالے سے رپورٹ دی گئی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ سول ایوی ایشن معاملہ پرحتمی فیصلہ کرے، 2015سے اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟ وکیل سول ایوی ایشن نے جواب دیا کہ 2021میں پیپرارول میں ترمیم ہوئی ہے اب کسی بھی کمپنی کو تین سے 5سال کا کنٹریکٹ دیا جاسکتا ہے۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ ہماراکنٹریکٹ ترمیم سےپہلے ختم کیا گیا۔
عدالت نے سول ایوی ایشن کوانکوائری مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔
