وفاقی حکومت کی جانب سے ماہ رمضان میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے رمضان پیکچ کا اعلان کرتے ہوئے یوٹیلیٹی اسٹورز سے آٹا غائب ہوگیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عوام کو اشیائے خوردونوش پر دی جانے والی رعایت ’’رمضان پیکچ‘‘ کا آغاز یوٹلیٹی اسٹورز کے ذریعے ہوگیا ہے لیکن لوگوں کو اکثر چیزیوں کے حصول میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
کراچی میں رمضان پیکیج کے آغاز پر بیشتر اسٹورز سے آٹا غائب رہا جس پر بازار کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ سبسڈی دی جارہی ہے۔
سستے آٹے کے حصول کے لیے یوٹلیٹی اسٹورز کا رخ کرنے والے شہریوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، جن اشیاپر سبسڈی دی جارہی ہے ان میں آٹے کے علاوہ گھی تیل، چینی، دالیں، سفید چنا، چاول، بیسن کھجور، ڈبہ بند دودھ اور مشروبات شامل ہیں۔
وفاقی حکومت کی سبسڈی کے تحت 10 کلو آٹے کا تھیلا 648 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جس کی عام بازاروں میں قیمت 1420 روپے ہے جب کہ چینی 190 کے بجائے 150 روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ گھی اور تیل بازار سے 25 روپے کم، چنا اور دالیں 25 روپے رعایت کے ساتھ فروخت کیا جارہا ہے جب کہ کھجور فی کلو پر 50 روپے کم، ایک کلو چاول پر بھی 25 روپے کی رعایت، 800 گرام چائے کی پتی پر 100 روپے کی کمی جب کہ ایک لیٹر ٹیٹرا پیک دودھ 30 روپے کم قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ فنڈ میں رجسٹرڈ افراد ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ 20 کلو آٹا،5 کلو چینی،5 کلو گھی 3 کلو چاول، دالیں اور5 لیٹر کوکنگ آئل خرید سکیں گے۔
کراچی کے یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی 19 بنیادی اشیا بازار سے نمایاں سبسڈی پر فراہم کیے جارہی ہیں، سبسڈی سے صرف بینظیر انکم سپورٹ فنڈ میں رجسٹرڈ افراد ہی استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔



















