وفاقی وزیراحسن اقبال کا کہنا ہے کہ وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کی وزیراعظم سے ملاقات بارش کا پہلا قطرہ ہے۔
اسلام آباد میں گفتگو کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی جناب احسن اقبال نے کہا کہ یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے خوش آئند ہے۔ اپوزیشن اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کی وزیراعظم سے ملاقات بارش کا پہلا قطرہ ہے، امید ہے اسی سمت میں تمام سٹیک ہولڈر آگے بڑھیں گے۔ سیاست اپنی اپنی لیکن عوام ہم سب کے سانجھے ہیں۔ سب کا فرض ہے سیاسی تنازع کو سائڈ پر رکھ کر مل کر کام کریں۔
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ کیا جہاں نسٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اعلیٰ حکام کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا۔
احسن اقبال نے گذشتہ سال قائم کردہ ٹیکنالوجی سنٹرزمیں پیش رفت اور اس حوالے سے کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ نیشنل یونیورسٹی اور ہائر ایجوکمیشن کمیشن حکام کی جانب سے قوانٹم، نینو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، گروتھ سنٹرز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر کو ٹیکنالوجی کے ان مراکز کے ضمن میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا گیا۔ انھوں نے سنٹرز کے جال کے پھیلاؤ اور جامعات میں اس حوالے سے تحقیقی مراکز کے قیام سے متعلق پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہائر ایجوکیشن ان مراکز پر پیش رفت یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکنالوجی مراکز کو اگست میں جس مقام پر چھوڑا تھا اب تک ان کے حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آسکی، وفاقی حکومت ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے ضمن میں ان ٹیکنالوجی مراکز کو نہایت اہم سمجھتی ہے، ٹیکنالوجی کے ان مراکز کا قیام ملکی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے وزارت منصوبہ بندی کے سینیئر افسران سے بھی خطاب کیا اورکہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے عہدہ براہ ہونے کے لئے معاشی و ترقیاتی ترجیحات کا درست تعین منصوبہ بندی کمیشن کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا وژن ہے کہ قومی اداروں میں بہترین دماغوں اور باصلاحیت افراد کار کو لا کر ملکی اداروں کی استعداد کار میں بہتری لائی جائے، وزرت منصوبہ بندی اور منصوبہ بندی کمیشن میں افسران کی استعداد کار میں بہتری لانے کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے گی، صوبوں اور دیگر وزارتوں سے ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون کے جائزہ کے لئے ماہرین کی شراکت کا دائرہ بڑھانے کے لئے میکنزم طے کیا جائے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پلاننگ کمیشن میں موجود افراد کار، ماہرین اور افسران کی کارکردگی جانچنے کے لئے ٹھوس پیمانے (کے پی آئیز) وضع کر کے پیش کئے جائیں، تمام ممبران اورکمیشن میں موجود ماہرین و افسران کی کارکردگی رپورٹ مستقل بنیادوں پر مرتب کی جائے، پلاننگ کمیشن کو تمام اداروں کے لئے رول ماڈل کا کردار ادا کرنا ہے، اس کے لئے مثالی کارکردگی دکھانا ضروری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بہترین صلاحیتوں اور تجربہ کے حامل افراد کی ترقیاتی عمل کی منصوبہ بندی میں شراکت ناگزیر ہے، موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے عہدہ براہ ہونے کے لئے سرکاری و نجی شعبے، اکیڈیمیما، انڈسٹری کی شراکت سے مختلف شعبوں سے ماہرین اور تجربہ کار افراد پر مشتمل اعلیٰ سطحی پالیسی بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ پی سی ون کی منظوری کے عمل کو سادہ بنا کر 15دن تک لایا جائے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایک نظام بنایا جائے تاکہ معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے، وقت اور انسانی و مالی وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لئے جلد سے جلد ڈیجیٹلایزیشن کو یقینی بنایا جائے گا۔
