بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف کینیڈین حکومت ڈٹ گئی
تفصیلات کے مطابق خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر کینیڈین حکومت اپنے موقف پر قائم ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹ ملوث ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ملوث تین بھارتی شہریوں کو کینیڈین عدالت میں پیش کر دیا گیا، تین ملزموں کمل پریت سنگھ، کرن برار اور کرن پریت سنگھ پر فرسٹ ڈگری مرڈر اور قتل کی سازش کا الزام ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینوں ملزموں کو جیل کی وردی پہنا کر عدالت میں بذریعہ ویڈیو لنک پیش کیا گیا، تینوں ملزموں نے انگریزی زبان میں ٹرائل کرنے کے فیصلے سے اتفاق کیا جب کہ تینوں ملزموں کو برٹش کو الانبیا کی صوبائی عدالت میں 21 مئی کو پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب عدالت میں بھارتی قاتلوں کی پیشی کے موقع پر سکھ کمیونٹی نے بھرپور احتجاج کیا۔ کمرہ عدالت کے باہر خالصتانی پرچم اور ہردیپ سنگھ نجر کی تصاویر کے ساتھ سکھوں کی بھارت سرکار کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔
اس موقع پر کینیڈین وزیر خارجہ میلانی جولی نے کہا کہ کینیڈا ہر حال میں اپنے شہریوں کا تصور کر تحفظ کرے گا، ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی تحقیقات رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی جانب سے جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے پر کینیڈا کا موقف بالکل واضح ہے، ہم اس بات پر قائم ہیں کہ کینیڈا کے شہری کو کینیڈین سرزمین پر بھارتی ایجنٹس نے قتل کیا۔
