خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ کے پی کے کو ہر سال واجب الادا رقم سے کم رقم ملتی ہے۔
خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم نے ارکان اسمبلی کو بتایا کہ بجٹ میں اخراجات کا کل تخمینہ 1234 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا بجٹ کا حجم 1754 ارب روپے ہے جس میں سے ترقیاتی بجٹ کے لیے 416 ارب روپے رکھے ہیں اور ضم اضلاع کے لیے اب تک صرف 123 ارب روپے ملے ہیں جبکہ ضم اضلاع کے لیے147 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔
وزیر خزانہ نے اسمبلی اجلاس میں بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم اضلاع کا سالانہ حصہ 262 ارب بنتا ہے، کے پی کے کو 139 ارب روپے کے سالانہ خسارے کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہ کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں وفاق سے محصولات کا ہدف 902 ارب رکھا گیا ہے۔
بجٹ اجلاس میں آفتاب عالم نے کہا کہ وفاق کے ذمہ 1800 ارب سے زائدکی رقم واجب الادا ہے، وفاق کی جانب سے کے پی کے کو واجب الادا فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق پرائیویٹ اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز پر ٹیکس 16 سے کم کر کے 5 فی صد کیا جا رہا ہے، ٹوبیکو کمپنیوں پر ایکسائز ڈیوٹی لاگو کی جا رہی ہے اور ہوٹلوں پر ٹیکس کی شرح 6 فی صد کردی گئی ہے۔
صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم نے اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ارکان اسمبلی کو مزید بتایا کہ کمرشل پراپرٹی پر بھی ٹیکس کی شرح کم کردی گئی ہے اور بجٹ کی تیاری میں تاجر برادری سے مشاورت کی گئی ہے ۔


















