سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ نے اسٹیشنری پر ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔
سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین آیف بی آر نے بتایا کہ ہماری پالیسی ہے کہ نان فائلرز سے ٹیکس لیں گے۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ہم پر ٹیکس بڑھانے کیلئے اقدامات نہ کرنے پر تنقید ہو رہی ہے، جب ہم نان فائلر سپلائرز پر ٹیکس عائد کرتے ہیں کہ تو فائلرز ان کو بچانے کیلئے آ جاتے ہیں۔
اس دوران فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ افریقی ملک روانڈ میں بچوں کو فری تعلیم، کتابیں اور کھانا دیا جاتا ہے، تعلیم اور کتابوں پر ٹیکس نہیں ہونا چاہئے، کتاب کاپی اور پنسل مہنگی ہونے لوگوں کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔
سینیٹر محسن عزیز کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت پر ٹیکس عائد نہ کیا جائے، یہ چیزیں مہنگی کرنے سے غریب تعلیم سے مزید دور ہو جائے گا، سٹیشنری سے ساڑھے 3 ارب روپے حاصل ہوں گے تاہم سمگلنگ بڑھ جائے گی، یہ تجویز عوام مخالف اور تعلیم مخالف ہے اسکو مسترد کیا جائے۔
فاروق ایچ نائیک نے تجویز دی کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کی آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے۔
بعد ازاں قائمہ کمیٹی نے سٹیشننری پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔



















